آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
طاہر داوڑ کی میت لوٹانے میں ’بلاجواز‘ تاخیر پر پاکستان کی تشویش
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے پشاور پولیس کے اہلکار ایس پی محمد طاہر داوڑ کی میت کی حوالگی میں ’بلاجواز‘ تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے جمعرات کی شب ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ افغانستان کی جانب سے غیرسفارتی طریقہ کار اور میت غیرسرکاری افراد کے سپرد کرنے کے اصرار کی وجہ سے ایس پی طاہر داوڑ کے سوگواران کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا جس سے بچا جا سکتا تھا۔
اس سے پہلے پاکستانی افواج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے بھی ایک پیغام میں ایس پی محمد طاہر داوڑ کے قتل کی مذمت کی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ کا اغوا، ان کی افغانستان منتقلی، ان کے قتل اور اس کے بعد افغان حکام کا رویہ کئی سوال اٹھاتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا پاکستانی قوم نے ایک بہادر پولیس افسر کھو دیا ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستانی حکام اس معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں، افغان سکیورٹی فورسز کو سرحد پر باڑ لگانے کے عمل اور دو طرفہ باڈر سکیورٹی کورڈینیشن میں مدد کرنی چاہیے تاکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف نہ استعمال کی جا سکے۔
یاد رہے کہ پشاور پولیس سے منسلک ایس پی محمد طاہر داوڑ کو 26 اکتوبر کو اسلام آباد سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد 13 نومبر کو افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ان کی لاش ملی تھی۔ اس موقعے پر افغان حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ طاہر داوڑ کو قتل کرنے سے قبل تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کی شب پشاور پولیس لائنز میں ایس پی داوڑ کی نماز جنازہ کے بعد انھیں حیات آباد کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ طاہر داوڑ کی میت لینے کے لیے طورخم سرحد پر سرکاری حکام کے ساتھ ساتھ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور ایم این اے محسن داوڑ موجود تھے۔ تاہم پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق افغان حکام نے پاکستانی حکام کو طاہر داوڑ کی میت دینے سے انکار کردیا تھا اور وہ لاش محسن داوڑ کو دینا چاہتے تھے۔ تاہم بعد میں محسن داوڑ اور ان کے بھائی سمیت قبائلی عمائدین کی ٹیم نے میت وصول کی۔
اس واقعے کے بعد پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ ’پاکستان نے 80 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کو جگہ دی لیکن اس کے باوجود طاہر خان داوڑ کی میت کی حوالگی سے متعلق افغان حکام کا رویہ غیر مناسب تھا اور جو رویہ طورخم پر دیکھنے کو ملا وہ اذیت ناک تھا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’افغان حکام نے طاہر داوڑ کی میت پاکستانی قونصل خانے کو دینے سے انکار کیا اور افغان حکام نے میت حوالگی کے بدلے کچھ مطالبات رکھنے کی کوشش کی، جبکہ ڈھائی گھنٹے انتظار کے بعد میت حوالے کی گئی۔‘