’طاہر داوڑ کو بنوں کے راستے افغانستان لے جایا گیا‘، عمران خان کا فوری تحقیقات کا حکم

طاہر داوڑ
،تصویر کا کیپشنطاہر داوڑ کی لاش افغانستان کے صوبے ننگرہار سے ملی

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پولیس افسر طاہر خان داوڑ کے قتل کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جبکہ وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ مذکورہ افسر کو بنوں کے راستے افغانستان لے جایا گیا تھا۔

جمعرات کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں عمران خان نے کہا کہ طاہر خان داوڑ کا قتل المناک ہے اور انھوں نے خیبر پختونخوا حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کے لیے اسلام آباد پولیس کے ساتھ تعاون کرے۔

عمران خان کے مطابق وزیرِ مملکت برائے امورِ داخلہ شہریار آفریدی اس تحقیقات کی نگرانی کریں گے اور انھیں رپورٹ پیش کریں گے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق شہریار آفریدی نے جمعرات کو سینیٹ میں طاہر داوڑ کے اغوا اور قتل کے بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف اداروں کی طرف سے ملنے والی معلومات کے مطابق مذکورہ ایس پی کو اسلام آباد سے اغوا کرنے کے بعد پہلے صوبہ پنجاب لے جایا گیا اور پھر چند دن وہاں پر رکھنے کے بعد اُنھیں پنجاب کے شہر میانوالی اور پھر بنوں کے راستے افغانستان لے جایا گیا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

واضح رہے کہ میانوالی وزیراعظم عمران خان کا شہر ہے جہاں سے وہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ طاہر خان داوڑ پر اس سے پہلے بھی دو مرتبہ خودکش حملے ہوئے تھے جس کی وجہ سے سات سال تک صوبہ خیبر پختونخوا سے باہر تعینات رہے۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ عرصہ قبل ان کے بھائی اور بھابی کو اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو میں قتل کیا گیا تھا۔

شہر یار آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ مقتول ایس پی کے جسد خاکی کو لینے کے لیے طورخم جار ہے ہیں۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ طاہر خان داوڑ کے قتل کے مقدمے میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا چاہے وہ پاکستان میں ہوں یا افغانستان میں۔

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے طاہر داوڑ کی لاش کی وصولی کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ داوڑ قبیلے سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بھی کہا ہے کہ وہ لاش لینے کے لیے سرحد پر جا رہے ہیں۔

حکومت کا جواب مسترد

ایوان میں حزب احتلاف کی جماعتوں نے وزیرِ مملکت برائے امورِ داخلہ شہریار آفریدی کی طاہر خان داوڑ کے قتل کے بارے میں پیش کی جانے والی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

حزب مخالف سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کہا کہ حکومت اس بارے میں جواب دے کہ طاہر خان داوڑ کے اغوا کے بعد دو ہفتے کے دوران انھیں بازیاب کروانے کے لیے کیا کوششیں کی گئیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کی رکن ستارہ جبیں کا کہنا تھا کہ جب بھی حکومت سے طاہر خان کے اغوا کی تفتیش کے بارے میں پوچھتے تھے تو وہ حقارت سے کہتے تھے کہ حزب مخالف خود جاکر اس کی تحقیقات کر لے۔

اُنھوں نے کہا کہ طاہر خان داوڑ کے اغوا اور پھر قتل کو پشتون تحفظ موومنٹ کے ساتھ جوڑنا بھی تشثویش ناک ہے۔

محمد طاہر خان کی پشاور میں رہائش گاہ
،تصویر کا کیپشنحیات آباد میں واقع مقتول طاہر داوڑ کی رہائش گاہ پر منگل کی شام سے لوگوں کا تانتا باندھا رہا

خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی محمد طاہر خان داوڑ 26 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوئے تھے۔

ان کی ہلاکت کی تصدیق 14 نومبر کو کی گئی تھی اور خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اور صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ طاہر داوڑ کی لاش افغانستان کے صوبے ننگرہار سے ملی ہے۔

بدھ کو پاکستان میں دفترخارجہ نے ایک بیان میں پولیس افسر طاہر خان داور کا نام لیے بغیر بتایا کہ افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک لاش ملی ہے جس کے ساتھ اسلام آباد سے اغوا ہونے والے پولیس افسر طاہر داوڑ کا سروس کارڈ بھی ملا ہے۔

خود کو خراسان ولایہ کہنے والی ایک غیر معروف تنظیم نے طاہر داوڑ کی ’قتل‘ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

خیال رہے کہ لاپتہ ہونے کے دو دن بعد طاہر داوڑ کے خاندان کو ان کے موبائل فون سے انگریزی زبان میں ایک ٹیکسٹ پیغام بھی آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ پنجاب کے شہر جہلم کے کسی علاقے میں ہیں اور چند دن کے بعد گھر واپس آ جائیں گے۔

لاپتہ افسر کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ پیغام طاہر داوڑ کے فون سے ضرور بھیجا گیا تھا، لیکن پیغام کا متن اور الفاظ کسی اور نے لکھے تھے۔ بقول ان کے، طاہر داوڑ زیادہ تر اردو زبان میں پیغام بھیجتے ہیں۔

پولیس افسر کے اہلخانہ سے تعزیت

منگل کی شام سے ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور مختلف واٹس ایپ گروپس میں تصویریں گردش کرنا شروع ہو گئی تھیں جن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ طاہر خان داوڑ کی ہیں لیکن سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو رہی تھی۔

پولیس افسر کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ پولیس افسر کے بھائیوں اور اہل خانہ کو بھی سوشل میڈیا نیٹ ورکس سے طاہر دواڑ کے ’قتل‘ اور افغانستان میں ان لاش ملنے کی اطلاع ملی۔ تاہم ان کے اہل خانہ ابتداء میں ان اطلاعات پر یقین نہیں کر رہے تھے۔

پولیس افسر کے قریبی دوست اور داوڑ قومی جرگہ کے رہنما سمیع اللہ دواڑ نے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ منگل کی شام وہ پولیس افسر کے بھائیوں سے ملنے ان کے گھر گئے جہاں اس وقت پولیس افسر کے رشتہ دار اور بچے بھی موجود تھے۔

محمد طاہر داوڑ کے اہلخانہ کی پریس کانفرنس
،تصویر کا کیپشنطاہر داوڑ کی گمشدگی کے بعد پشاور پریس کلب میں ان کے اہلخانہ نے پریس کانفرنس بھی کی تھی

انھوں نے کہا کہ جب ان کے بھائیوں سے سوشل میڈیا پر چلنے والے تصویروں اور ان کے ’قتل‘ سے متعلق استفسار کیا گیا تو بھائیوں اور بچوں نے کچھ کہنے کی بجائے اچانک زارو قطار رونا شروع کر دیا جس سے وہاں ماحول انتہائی افسردہ ہوا۔

سمیع داوڑ نے کہا کہ طاہر دواڑ کے اہل خانہ گذشتہ 20 دنوں سے جس تکلیف اور کرب سے گزرا ان کا اندازہ ان کے علاوہ اور کوئی نہیں کر سکتا۔

پولیس افسر کے ایک بھائی سے جب دریافت کیا گیا کہ پولیس کی طرف سے ان کو اس بابت کچھ بتایا گیا کہ ان کے بھائی لاپتہ اسلام آباد سے ہوئے مگر ان کی ’لاش‘ کے افغانستان سے ملنے کی اطلاعات ہیں تو اس پر انہوں نے صرف اتنا کہا کہ انہیں کچھ نہیں معلوم اور اس کے ساتھ ہی وہ وہاں سے اٹھ کر دوسری طرف چلے گئے۔

پشاور کے علاقے حیات آباد میں واقع مقتول طاہر داوڑ کی رہائش گاہ پر منگل کی شام سے لوگوں کا تانتا باندھا رہا اور دور دارز کے علاقوں سے لوگ تعزیت کے لیے آتے رہے۔

تعزیت کےلیے آنے والوں میں بیشتر لوگ وزیرستان کے تھے جن میں قومی جرگوں کے مشران اور دیگر قبائلی ملکان شامل ہیں۔

مقتول کی رہائش گاہ پر موجود شمالی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ مومنٹ کے رہنما محسن داوڑ نے کہا کہ مقتول محمد طاہر داوڑ لاپتہ اسلام آباد جیسے محفوظ ترین شہر سے ہوئے لیکن ان کی ’لاش افغانستان سے ملی جس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔‘