آسیہ بی بی: کینیڈا کے رابطے کی تصدیق، ’پاکستان آسیہ کے قانونی حقوق کا احترام کرتا ہے'

پاکستانی حکام نے آسیہ بی بی کے معاملہ پر کینیڈا کی جانب سے پاکستان سے رابطہ کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ کینیڈا کے وزیر خارجہ نے گذشتہ روز اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کو فون کرتے ہوئے ان سے دیگر معاملات کے علاوہ آسیہ بی بی کے معاملے پر بھی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کینیڈین وزیر خارجہ نے سپریم کورٹ کے جرات مندانہ فیصلے اور وزیر اعظم عمران خان کی مثبت تقریر کی تعریف کی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ترجمان ڈاکٹر فیصل نے یہ بھی کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے کینیڈین ہم منصب کو بتایا کہ آسیہ بی بی پاکستانی شہری ہیں اور پاکستان ان کے تمام قانونی حقوق کا مکمل احترام کرتا ہے۔

خیال رہے کہ پیر کو پیرس میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ ان کا ملک توہینِ مذہب کے مقدمے سے بری ہونے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو پناہ دینے کے لیے سلسلے میں پاکستان سے بات چیت کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وہاں داخلی طور پر ایک نازک صورتحال ہے جس کا ہمیں احساس ہے اور اسی لیے میں اور کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ مگر میں لوگوں کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ کینیڈا ایک ولکمنگ (استقبال کرنے والا) ملک ہے۔'

ادھر کینیڈا میں حزبِ اختلاف نے بھی ٹروڈو حکومت کی اس سلسلے میں حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔ حزبِ مخالف کی کنزرویٹوو پارٹی نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ 'وہ اپنے اختیار میں موجود ہر طریقہِ کار کا استعمال کرتے ہوئے آسیہ بی بی اور ان کی فیملی کو پناہ فراہم کریں۔'

آسیہ بی بی کون ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ کیسے ہوا؟

سیحی برادری سے تعلق رکھنے والی آسیہ نورین بی بی پنجاب کے ضلع ننکانہ کے ایک گاؤں اِٹاں والی کی رہائشی تھیں جو لاہور سے تقریباً 50 کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔

2009 میں اسی گاؤں میں فالسے کے ایک باغ میں آسیہ بی بی کا گاؤں کی چند عورتوں کے ساتھ جھگڑا ہوا جس کے دوران مبینہ طور پر انھوں نے پیغمبرِ اسلام کے خلاف 'تین توہین آمیز' کلمات کہے تھے۔

جون 2009 میں ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا جس میں توہینِ رسالت کے قانون 295 سی کے تحت الزام لگایا گیا۔ 2010 میں ضلع ننکانہ صاحب کی سیشن عدالت نے آسیہ بی بی کو موت کی سزا سنا دی اور وہ پاکستان میں یہ سزا پانے والی پہلی خاتون بن گئیں۔

آسیہ بی بی نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی۔ چار سال بعد اکتوبر 2014 میں عدالت نے سزا کی توثیق کر دی۔آسیہ بی بی نے جنوری 2015 میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔

سپریم کورٹ سے بریت اور تحریک لبیک کا احتجاج

مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے بریت کے فیصلے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جو تقریباً تین دن تک جاری رہا اور مظاہرین کے حکومت کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں احتجاج ختم کیا گیا۔

تحریکِ لبیک اور حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے گا اور آسیہ بی بی کے مقدمے میں نظر ثانی کی اپیل پر حکومت اعتراض نہیں کرے گی۔

اس پانچ نکاتی معاہدے کے بعد تحریکِ لبیک پاکستان نے ایک خطاب کے ذریعے ملک بھر میں اپنے احتجاج اور دھرنے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

آسیہ بی بی کے شوہر کی مغربی ممالک سے پناہ کی اپیل

حکومت کے مظاہرین سے معاہدے کے بعد آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سے پناہ کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں حکومت کے تحریک لبیک سے معاہدے کے بعد ان کے خاندان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

اس سے پہلے توہین رسالت کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو بری کرانے والے وکیل ایڈووکیٹ سیف الملوک اپنے خاندان سمیت بیرون ملک روانہ ہو گئے تھے۔

ایک ویڈیو پیغام میں عاشق مسیح نے کہا ہے کہ انھیں اپنے خاندان کی سلامتی کے بارے میں تشویش ہے۔

'میں برطانیہ کے وزیراعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہماری مدد کریں اور جہاں تک ممکن ہو ہمیں آزادی دلائیں۔'

انھوں نے برطانیہ کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا سے بھی مدد مانگی ہے۔