کیا فرق ہے کسی دوست ملک سے قرض مانگنے اور آئی ایم ایف کے پاس قرض کی درخواست لے کر جانے میں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آپ نے زندگی میں کبھی نہ کبھی ادھار تو مانگا ہو گا۔ دوستوں سے بھی اور شاید والد صاحب سے بھی؟
اس موقعے پر دونوں کے رویے میں کچھ فرق محسوس کیا؟ دوست نے شاید بغیر سوال و جواب کے پیسے دے دیے ہوں گے (اگر اس کے پاس ہوئے) لیکن والد صاحب کا اس وقت رویہ کیسا تھا؟
’پہلے جو پیسے دیے تھے ان کا کیا کِیا؟ تم بہت فضول خرچ نہیں ہو گئے؟‘
کیا پیسے مانگنے پر والد صاحب کے ان سوالوں کا سامنا کرنا پڑا؟
آج کل حکومت پاکستان کو اسی طرح کے سوالات کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا ایک وفد ان دنوں پاکستان میں ہے جہاں وہ حکومت کی قرض کے حصول کی درخواست پر مذاکرات کر رہا ہے۔
ان مذاکرات میں کیا کچھ ہوتا ہے اور آئی ایم ایف کا قرض دینے کا طریقہ کار ہے کیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قرض حاصل کرنے میں دلچسپی کا اظہار
آئی ایم ایف سے جب کوئی ملک قرض مانگنے کا ارادہ کرتا ہے تو سب سے پہلے اسے ایک باضابطہ تحریری درخواست اس کے سامنے پیش کرنا ہوتی ہے۔ عام طور پر ایسا اس ملک کے وزیراخزانہ ذاتی طور پر آئی ایم ایف کے دفتر میں جا کر کرتے ہیں۔
اس درخواست میں اس قرض کے حصول کی وجہ اور اپنا ماضی کا ریکارڈ بتایا جاتا ہے تاکہ ثابت کیا جائے کہ اس ملک کے لیے یہ قرض لینا کتنا ضروری ہے اور یہ کہ ماضی میں اس ملک نے قرض لے کر اس کا درست استعمال بھی کیا اور قرض واپس بھی کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئی ایم ایف اپنے اجلاس میں اس درخواست کا سرسری جائزہ لے کر قرض دینے کی اصولی منظوری دیتا ہے۔ پاکستان کے معاملے میں یہ دونوں مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور اب تیسرا مرحلہ درپیش ہے یعنی کہ اس درخواست کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
معیشت کا جائزہ
آئی ایم ایف صرف ان ملکوں کو قرض جاری کرتا ہے جو معاشی بحران کا شکار ہوں۔ آئی ایم ایف کی مشن سٹیٹ منٹ کہتی ہے: ’آئی ایم ایف ان ملکوں کی مدد کرتا ہے جو معاشی بحران سے دوچار ہوں تاکہ انھیں معاشی استحکام لانے کے لیے اپنی معاشی پالیسیاں بہتر بنانے کا موقع مل سکے۔‘
ان دنوں آئی ایم ایف کا ایک جائزہ مشن پاکستان میں ہے۔ سب سے پہلے وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کو کس قسم کے معاشی بحران کا سامنا ہے۔ اس کے لیے وہ پاکستانی خزانے کی بیلینس شیٹ کا جائزہ لے گا تاکہ پتہ چل سکے کہ پاکستانی خزانے میں کتنے پیسے ہیں اور اخراجات کتنے ہیں۔
اسی سے اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستان کو درپیش معاشی بحران کتنا سنگین ہے۔ جب یہ بات طے ہو جائے گی کہ پاکستان کو واقعی پیسوں کی اشد ضرورت ہے اور آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر یہ بحران ختم نہیں ہو گا اس کے بعد آئی ایم ایف یہ طے کرے گا کہ حکومت کو وہ کیا اقدامات کرنے چاہییں جس سے یہ بحران ٹل سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آئی ایم ایف قرض کے لیے کیا واقعی شرائط رکھتا ہے؟
جب آئی ایم ایف یہ طے کرتا ہے کہ قرض لینے والے ملک کو اپنے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے بعض اقدامات کرنے چاہییں تو وہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ وہ ملک یہ اقدامات ضرور کرے۔ ان اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے آئی ایم ایف یہ اقدامات کرنےکی حکومت سے تحریری یقین دہانی لیتا ہے۔ انھی کو آئی ایم ایف کی شرائط کہا جا سکتا ہے۔ یہ شرائط اس معاہدے کا حصہ ہوتی ہیں جس کے تحت قرض جاری کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کو قرض لینے کے لیے کن شرائط کو پورا کرنا ہو گا؟
بعض اقتصادی ماہرین آئی ایم ایف کو تنگ نظر معاشی پالیسی کا حامل قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کے پاس دنیا بھر کے ملکوں کے معاشی بحرانوں کو حل کرنے کا ایک ہی فارمولا ہے۔ اور وہ فارمولا ہمیشہ ایک سا رہتا ہے اور آئی ایم ایف کی ویب سائیٹ پر موجود بھی ہے۔
آئی ایم ایف حکام ہمیشہ برآمدات بڑھانے، شرحِ سود بڑھانے، سبسڈیز ختم کرنے، مقامی کرنسی کی قدر کم کرنے اور بجٹ خسارہ کم کرنے کے اقدامات تجویز کرتا ہے۔ یہ وہ بنیادی ڈھانچہ ہے جس کے گرد آئی ایم ایف کی شرائط گھومتی ہیں اور پاکستان کے لیے بھی اس نوعیت کی شرائط ہوں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا ان شرائط کو نہ ماننے کا آپشن موجود ہے
یہ اس بات پر منحصر ہے کہ قرض لینے والا ملک اپنے کوٹے کے مطابق قرض لیتا ہے یا اس سے زیادہ۔ اس وقت پاکستان کا کوٹہ جس حد تک وہ قرض لے سکتا ہے وہ دو سے تین ارب ڈالر تک ہے۔ لیکن کوئی بھی ملک اپنے کوٹے سے زیادہ قرض بھی لے سکتا ہے۔
پاکستان کے پاس اپنے کوٹے سے چار سو فیصد سے زائد قرض لینے کی سہولت موجود ہے۔ لیکن کوٹے سے زیادہ قرض لینے میں مسئلہ یہ ہے کہ جوں جوں قرض کی مقدار کوٹے سے بڑھتی چلی جاتی ہے، آئی ایم کی شرائط پر عمل کرنا بھی اتنا ہی ٰضروری ہوتا چلا جاتا ہے۔
مثلاً اگر پاکستان اپنے کوٹے کے مطابق دو سے تین ارب ڈالر لیتا ہے تو وہ ان شرائط کو بہت حد تک نظر انداز کر سکتا ہے لیکن اگر اپنے کوٹے کی آخری حد سے بھی زائد قرض لیتا ہے تو ان کے علاوہ بعض نئی شرائط بھی عائد ہوں گی جن پر سو فیصد عمل بھی ضروری ہو جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسی بنا پر وزیراعظم عمران خان کی کوشش رہی ہے کہ آئی ایم ایف کے بجائے کسی دوست ملک سے ضرورت کا کچھ قرض لے لیا جائے تاکہ ان کڑی شرائط سے کسی حد تک بچا جا سکے۔
یہی فرق ہے کسی دوست ملک سے قرض مانگنے اور آئی ایم ایف کے پاس قرض کی درخواست لے کر جانے میں۔








