آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آسیہ بی بی کیس: فیصلے سے پہلے اور بعد کمرہ عدالت میں کیا ہوا
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
بدھ کو سپریم کورٹ میں جب توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ہونے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی اپیل پر فیصلہ سنایا جانا تھا تو کمرہ عدالت میں پہنچنے سے قبل تین چار مقامات ایسے قائم کیے گئے تھے جہاں پر ہر ایک شخص کو روکا جاتا تھا۔
سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے پر تعینات پولیس اہلکاروں نے صرف ان لوگوں کو احاطہ عدالت میں جانے کی اجازت دی جن کے مقدمات کی سماعت ہونا تھی۔
ان مقامات پر موجود پولیس اہلکار جو سپریم کورٹ میں کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں سے ملتے رہتے ہیں، وہ بھی اُنھیں روک رہے تھے۔
آسیہ بی بی کے مقدمے کے بارے میں مزید
آسیہ بی بی کا مقدمہ چونکہ بین الاقوامی شہرت اختیار کر چکا تھا اس لیے اس کی اپیل پر آنے والے فیصلے کو سننے کے لیے مقامی میڈیا کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد بھی عدالت جانے کے لیے قطاروں میں لگی ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی وقت کے مطابق نو بج کر دس منٹ پر چیف جسٹس کی عدالت کورٹ روم نمبر ون کا دروازہ کھولا گیا اور بڑی تعداد میں وکلا اور صحافیوں نے کمرہ عدالت میں پہلے داخل ہونے کے لیے دوڑ لگا دی۔
مولوی محمد سالم جو آسیہ بی بی کے خلاف درج ہونے والے توہین مذہب کے مقدمے کے مدعی تھے، اُنھوں نے بھی کمرہ عدالت میں جانے کی کوشش کی تو وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے اُنھیں روک لیا اور کہا کہ ’آپ اندر نہیں جا سکتے‘۔
کورٹ روم نمبر ون میں ابھی لوگ صحیح طریقے سے اپنی نشستوں پر بھی نہیں بیٹھے تھے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ آسیہ بی بی کی اپیل پر فیصلہ سنانے کے لیے پہنچ گیا اور ایک منٹ سے بھی کم وقت میں چیف جسٹس نے اس اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا حکم دیا۔
عدالتی فیصلہ سننے کے بعد صحافی وہاں سے نکلے تو دیکھا کہ مولوی محمد سالم ابھی تک پولیس اہلکاروں کے ساتھ تکرار میں مصروف تھے کہ وہ اس مقدمے کی مدعی ہیں لہٰذا اُنھیں اندر جانے دیا جائے۔
عدالتی فیصلہ سنائے جانے سے قبل سپریم کورٹ میں سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے تھے اور پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔
عدالتی فیصلہ سننے کے بعد تحریک لبیک کے کارکن کمرہ عدالت سے نکلنے کے بعد اپنے رہنماؤں کو فون پر اطلاع دیتے رہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ٹریفک پولیس کے ذریعے اطلاعات موصول ہونا شروع ہو گئیں کہ مظاہرین نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں میں اہم شاہراہوں کو مسدود کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ سننے کے بعد اگر کچھ لوگ سب سے زیادہ الرٹ اور پریشان تھے تو وہ سپریم کورٹ میں تعینات پولیس اہلکار تھے۔ ان پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد اُن کی ڈیوٹیاں بڑھ جائیں گی کیونکہ اُنھیں معلوم تھا کہ اس فیصلے کے بعد لوگ احتجاج کے لیے نکلیں گے۔