آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نواز شریف: ’وزیراعظم بتائیں این آر او کون مانگ رہا ہے‘
سابق وزیر اعظم اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن کی جماعت کے ان افراد کے نام بتائیں جو کہ وزیر اعظم کے بقول حکومت سے ’این آر او‘ مانگ رہے ہیں۔
پیر کے روز احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان اور متعدد وفاقی وزرا بارہا میڈیا پر آکر بیان دیتے ہیں کہ کسی کو این آر او یعنی مقدمات کے خاتمے کے لیے قومی مصالحتی آرڈینینس جاری نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ نہ تو اُنھوں نے اور نہ ہی ان کی جماعت کے کسی رکن نے مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے وزیر اعظم اور وفاقی وزرا سے رابطہ کیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن افراد کے نام بتائے جنہوں نے این آر او حاصل کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹی وی پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ حزب مخالف کی دو بڑی جماعتوں کے رہنما این آر او کے لیے حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں تاہم اُنھوں نے ان رہنماوں کے نام نہیں بتائے۔
واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی ان حکومتی دعووں کی تردید کی ہے کہ ان کی جماعت کی طرف سے ان پر درج ہونے والے مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے این آر او جاری کرنے کے لیے حکومت سے رابطہ کیا گیا ہے۔
جمعیت عملائے اسلام کی طرف سے حزب مخالف کی جماعتوں کی بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کی وفات کی وجہ سے ابھی تک غم کی کیفیت میں ہیں اور ابھی تک وہ سیاست کی طرف واپس نہیں آرہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ میاں شہباز شریف سے ملاقات کے بعد کریں گے۔
اُنھوں نے اپنے چھوٹے بھائی اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی گرفتاری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صاف پانی کے منصوبوں میں نیب کو کچھ نہیں ملا تو اُنھیں آشیانہ ہاوسنگ سکیم میں گرفتار کرلیا گیا اور اب آشیانہ ہاوسنگ سکیم میں کچھ نہیں نکلا تو اُنھیں آمدن سے زیادہ اثاثوں کے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت احتساب کی آڑ میں حزب مخالف کی جماعتوں کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔