آٹھ اکتوبر کا زلزلہ: دکھ، مصیبت، عزم اور یکجہتی کا دن

    • مصنف, حسین عسکری
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لندن

پاکستان میں آٹھ اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کو آئے آج 13 برس مکمل ہوئے ہیں۔ اس زلزلے میں تقریباً 85 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سوشل میڈیا پر لوگ اس افسوسناک دن کے بارے میں تبصرے کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ذاتی تجربات کو بیان کر رہے ہیں تو کچھ پورے ملک پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کر رہے ہیں۔ یہ بھی یاد کیا جا رہا ہے کہ کس طرح پورے ملک میں لوگوں نے متاثرہ خاندانوں کی امداد میں حصہ لیا۔ تباہی کی تصاویر سوشل میڈیا پر جابجا موجود ہیں۔

سردار احسن اقبال نے زلزلے میں ہلاک ہونے والے 55 بچوں کی اجتماعی قبر کی تصویر ٹویٹ کی ہے۔ یہ تصویر شاید اس المیے کی ایک بڑی علامت کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

عدیل ہاشمی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ اُس روز میں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ پوری قوم کو صدمے میں دیکھا۔ اُس کے بعد عزم اور یکجہتی کا زبردست مظاہرہ دیکھا۔

Th_bountyHunter@ نے لکھا کہ مجھے وہ دن آج تک یاد ہے۔ میں پانچویں کلاس میں تھا۔ میں بری طرح رو رہا تھا اور درود پڑھ رہا تھا۔

محمد خزران نے لکھا کہ میں اُس روز اپنی کلاس میں تھا اور میرے استاد معمول کے مطابق ڈانٹ رہے تھے کہ اچانک میری ڈیسک ہلنے لگی۔

حکومتِ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ آج کے دن نہ صرف ہلاک ہونے والوں کو یاد کرنا چاہیے بلکہ یہ دن ہماری توجہ اِس جانب بھی دلاتا ہے کہ ہم ایسی کسی آفت سے نمٹنے کے لیے کتنے تیار ہیں۔

عامر گورسی نے کہا کہ ہم اُس روز ہلاک ہونے والوں کو آج تک نہیں بھولے۔

سائرہ انوار نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ تیرہ برس ہو چکے ہیں لیکن آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے اثرات متاثرہ لوگوں اور ہمارے دلوں پر آج بھی ہیں۔ اُس دن سے پہلے مجھے تباہ کن زلزلوں کے اثر کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔

عامر بشیر انقلابی کہتے ہیں کہ پھنسے ہوئے لوگوں کی چیخیں ان وادیوں میں آج بھی گونجتی ہیں۔ ملبے میں سے ماؤں کی سسکیاں آج بھی سنائی دیتی ہیں۔

حمزہ شفیق نے ہلاک ہونے والوں کے لیے اور ایسی قدرتی آفات سے بچے رہنے کی دعا کی۔