آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شاہ محمود قریشی: ’امریکا کو باور کرا دیا کہ افغانستان کے معاملے میں پاکستان کے بغیر پیشرفت ممکن ہی نہیں‘
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکہ سے تعلقات میں پیش رفت ہوئی ہے اور امریکہ کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ افغانستان کے معاملے میں پاکستان کے بغیر پیش رفت ممکن ہی نہیں۔
پاکستان روانگی سے قبل واشنگٹن میں جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گذشتہ ایک سال سے پاکستان پر تنقید کی جا رہی تھی تاہم اب امریکی حکام کے مثبت پیغام آ رہے ہیں اور ہم سے پہلے پاکستان کی اعلیٰ امریکی حکام تک رسائی نہیں تھی۔
انھوں نے کہا کہ’ میں سمجھتا ہوں کہ پیش رفت ہوئی ہے اور وہ اس طرح کہ گذشتہ برس کے اگر ان کے( امریکہ) کے بیانات کو دیکھیں تو اس میں سوائے انگلیاں اٹھانے اور تنقید کی بوچھاڑ کے علاوہ کچھ نہیں تھا لیکن اس بار یہ کم دکھائی دیا۔‘
یہ بھی پڑھیے
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس سے پہلے امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیائی امور کی نائب سیکریٹری ایلس ویلز کے علاوہ کوئی ملاقات ہی نہیں کرتا تھا لیکن اب تھوڑے سے عرصے میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پاکستان ائے اور ان کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی جس میں سول اور ملٹرری قیادت دونوں موجود تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’مائیک پومپیو جو تاثر لے کر آئے، جس میں انھیں بالکل واضح پیغام ملا کہ ہماری سول اور ملٹری قیادت یکسوئی سے ایک صفحے پر ہے اور ملک کے مفادات کا مل کر تحفظ کرنے کا پورا ارادہ ہے اور اس سے بہت مثبت پیغام گیا۔‘
پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے افغانستان کی خود مختاری کا احترام اور بھائیوں جیسا سلوک چاہتا ہے۔
انھوں نے افغانستان میں امن کے حوالے سے کہا کہ’میں ان چند دنوں میں کسی حد تک انھیں( امریکہ) کو یہ بات باور کرانے میں کامیاب ہوا ہوں کہ پاکستان کے بغیر پیش رفت ممکن ہی نہیں ہے اور پاکستان سے پیش رفت حاصل کرنے کے لیے دوستانہ ماحول چاہیے، پریشر سے اور الزامات تراشیوں سے مسائل اور فضا بگڑتی ہے بنتی نہیں۔‘
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلقات کو صرف افغانستان کی نظر سے دیکھا جائے کیونکہ ہماری ستر سالہ تاریخ ہے جس میں اونچ نیچ آئی ہے لیکن آگے بڑھنا ہے اور اگر غلط فہمیاں ہیں تو انھیں دور کرنا ہے اور دونوں جانب توقعات میں کبھی ہمیں تو کبھی آپ کو مایوسی ہوئی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم لاتعلق ہو جائیں۔
’لاتعلق ہوئے بات بنے گی نہیں، بات بن سکتی ہی پاکستان کو ساتھ لے کر چلنے سے ہو گی۔‘
اس بارے میں مزید پڑھیے
القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مبینہ طور پر امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ شکیل آفریدی کے بارے میں امریکہ کا طویل مطالبہ رہا ہے تاہم امریکہ جب یہ چاہتا ہے کہ ہم ان کے قوانین کا احترام کریں تو انھیں بھی ہمارے قوانین کا احترام بجا لانا ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر شکیل آفریدی کی بات ہوتی ہے تو وہاں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ذکر ہوتا ہے اور پاکستانی عوام کی توقع ہوتی ہے کہ انھیں باعزت طور پر واپس لایا جائے۔
واضح رہے کہ گذشہ روز شاہ محمود قریشی اور ان کے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان طالبان مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کے موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کو اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے واشنگٹن میں ملاقات کی تھی جس میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خطے کی صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے اس ملاقات کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ شاہ محمود قریشی نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کو باہمی مفادات کے حوالے سے وسیع البنیاد سطح پر بات چیت کرنی چاہیے اور اس ضمن میں منظم فریم ورک کی ضرورت ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل کی حمایت کرتا ہے وہاں طاقت کا استعمال بےنتیجہ ثابت ہوا ہے۔
اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ جان پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کی نئی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے اس کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وقت آ گیا ہے کہ افغان طالبان مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کے موقع کا فائدہ اٹھائیں۔