کویتی اہلکار کے بٹوے کی چوری کے بعد اب ’جعلی چور‘ پر شرمندگی

،تصویر کا ذریعہcopyrightYOUTUBE
پاکستان کا دورہ کرنے والے کویتی وفد کا مبینہ طور پر ویڈیو میں سرکاری تقریب کے دوران بٹوا چوری کرتے ہوئے دیکھے جانے کے بعد سے ایک سرکاری ملازم کے خلاف تحقیقات کی جاری ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر مشتبہ شخص ضرار حیدر خان کی بجائے جس شخص کی تصویر شائع کی گئی ان کا اس معاملے سے دور دور تک تعلق نہیں اور اس وقت امریکہ میں مقیم یں۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ضرار حیدر خان وزارت صنعت و پیداوار کے جوائنٹ سیکریٹری ہیں اور چوری کے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئیں ہیں۔
پاکستانی اخبار دی نیوز کے مطابق: ’ضرار حیدر خان کی معطلی کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ ضرار حیدر خان 20 گریڈ کے ملازم ہیں جو پاکستان میں سرکاری ملازمت کا اعلیٰ گریڈ ہے، اس واقعے سے حکومت کو ’شدید شرمندگی‘ اٹھانا پڑی ہے۔‘
کیا ہوا؟
ڈان اخبار کے مطابق سی سی ٹی وی کی چھ سیکنڈ کے ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتبہ شخص اکنامک افیئرز ڈویژن میں میز پر پڑا بٹوا اٹھا لیتا ہے۔
اخبار کے مطابق چوری کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب کویتی وفد نے اپنے میزبان سے بٹوے کے غائب ہونے کے بارے میں بتایا اور شکایت درج کروائی گئی۔
اخبار میں مزید کہا گیا ہے کہ اس بٹوے میں ’بڑی تعداد میں کویتی دینار‘ موجود تھے اور حکام کی جانب سے یہ ویڈیو کلپ دیکھنے کے بعد مشتبہ شخص کی شناخت کی گئی۔
پاکستانی پریس کے مطابق کویتی وفد ’انتہائی برہم‘ تھا اور مشتبہ شخص کی شناخت پر اصرار کر رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN GOVERNMENT
شناخت میں غلطی
سی سی ٹی وی فوٹیج ٹی وی پر چلنے کے فوراً بعد ہی جنوبی ایشیا کے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جہاں پاکستانی ٹوئٹر صارفین پاکستان کا دورہ کرنے والی محترم شخصیات سے چوری پر شرمندگی کا اظہار کرتے رہے۔
وہیں انڈین سوشل میڈیا صارفین بھی پیچھے نہ رہے اور ان میں سے کئی نے کہا: ’چھوٹے ملک کے چھوٹے حکام ایسا ہی کرتے ہیں جب وہ بڑے لوگوں کا بٹوا دیکھیں۔‘
تاہم جو تصویر میڈیا رپورٹس، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی وہ ضرار حیدر خان کی نہیں بلکہ زیاد حیدر کی ہے جو کہ امریکہ میں مقیم رسک اینالسٹ ہیں اور واشنگٹن ڈی سی میں سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے لیے بھی کام کر چکے ہیں۔
پاکستان ٹو ڈے کے مطابق زیاد حیدر وائٹ ہاؤس فیلو اور سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹیڈیز میں سینیئر ایسوسی ایٹ بھی رہے ہیں۔
آن لائن نیوز ڈیلی پاکستان کا کہنا ہے کہ’غلط حیدر کی تصاویر انٹرنیٹ پر بے عزت کرنے والے جملوں اور تبصروں کے ساتھ شائع کی گئیں۔‘
جب ٹوئٹر پر ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں خبر ہے کہ وہ اس وقت پاکستان میں ٹرینڈ کر رہے ہیں تو مکمل طور پر بے قصور زیاد حیدر نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ’میرا نام زیاد حیدر ہے نہ کہ ضرار حیدر، اور جیسا کہ اب تک پاکستان ذرائع ابلاغ کو بھی معلوم ہو چکا ہے کہ یہ ایک جعلی خبر ہے۔‘
تاہم یکم اکتوبر کو بھی پاکستانی نشریاتی اداروں کی جانب سے جو ویڈیوز یوٹیوب پر شائع کی گئیں ہیں ان میں غلطی سے بے قصور زیاد حیدر کو ہی دکھایا گیا ہے جبکہ اب تک ضرار حیدر کی کوئی تصویر دستیاب نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آگے کیا ہوگا؟
اس واقعے سے یقینی طور پر حکومت پاکستان کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور اسے امید ہے کہ فوری تحقیقات سے کویتی غصہ ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے۔
تاہم ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے کویت کی سرمایہ کاری کے منصوبے کو ’ملتوی‘ ہے اور اس سے ملک میں مالی ضمانت سے بچنے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی امیدوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
عمران خان کو وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالے ابھی دو ماہ سے بھی کم کا عرصہ ہوا ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم بننے کے بعد ملک سے بدعنوانی کو پاک کرنے کا عزم کا اظہار کیا تھا۔







