لائن آف کنٹرول پر ہیلی کاپٹر کے ساتھ ہوا کیا؟

    • مصنف, رضا ہمدانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ وہ آج یعنی اتوار کے روز فارورڈ کہوٹہ گئے تھے جہاں ایک تو تعزیت کرنی تھی اور دوسرا انڈیا آرمی چیف کی جانب سے دی گئی نئی دھمکی کے حوالے سے لوگوں کا مورال دیکھا جا سکے کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔

’ہم نے نجی ہیلی کاپٹر کرائے پر لیا اور ہم چھوٹے سے گاؤں عباس پورہ کے قریب لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ جا رہے تھے ہم فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کر رہے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ دو وزرا اور پی ایس او ہیلی کاپٹر پر سوار تھے۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سویلین ہیلی کاپٹر زیرو لائن تک جا سکتا ہے لیکن اگر فوجی ہیلی کاپٹر ہو تو دونوں ممالک ایک دوسرے کو پیشگی اطلاع دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایل او سی کوئی سیدھی لکیر نہیں ہے یا کوئی واضح نشانی نہیں ہے۔ کہیں ایک کھائی وہاں چلی جاتی ہے اور پھر یہاں آ جاتی ہے۔

’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم لائن آف کنٹرول کے بہت قریب پرواز کر رہے تھے۔ ایک دم سے انڈین فورسز کی جانب سے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کر دی گئی۔ سویلین ہیلی کاپٹر کا ہمیں بھی معلوم ہوتا ہے اور ان کو بھی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ان کو یہ نہیں معلوم ہو کہ یہ سفید رنگ کا ہیلی کاپٹر سویلین نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کو علم نہیں ہوا کہ ہیلی کاپٹر پر فائرنگ ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جب وہ فارورڈ کہوٹہ پہنچے تو ان کو بتایا گیا کہ انڈین فورسز نے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی ہے۔ ’ہم خاموش رہے۔‘

راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ کہوٹہ سے واپسی پر انھوں نے دوسرا روٹ اختیار کیا اور سماہنی کے پاس ڈسٹرکٹ بھمبر گئے کیونکہ وہ بھی فارورڈ ایریا اور ادھر بھی لوگوں سے ملنا تھا۔

’بھمبر پہنچ کر ہمیں مزید معلومات ملیں کہ کیسے انڈیا الزام لگا رہا ہے کہ ہیلی کاپٹر نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی اور انڈین فورسز نے فائرنگ کی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی پاکستان فوج سے بات ہوئی اس معاملے پر اور کیا فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی آئندہ ہونے والی بات میں یہ معاملہ اٹھایا جائے گا تو ان کا کہنا تھا کہ ’جی میں کروں گا۔ آج تو اتوار ہے تو میں کل فوج سے بات کروں گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے بات ہوئی تھی اور انھوں نے تصدیق کی کہ ہیلی کاپٹر نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی نہیں کی اور یہ کہ انڈین فورسز نے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی۔

انھوں نے کہا ’یا تو ہم پونچھ شہر چلے جاتے، ایک گاؤں ہے تگواڑ جو آدھا ہمارے پاس ہے اور آدھا ان کے پاس وہاں گھس جاتے تو بات اور ہوتی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ پہلے بھی ہیلی کاپٹر سے سفر کرتے رہتے ہوں گے اور پہلے کبھی ایسا واقعہ پیش آیا تو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ’اصل میں آج یہ ہوا کہ پائلٹ نے وہاں چوٹیوں سے بچنے کے لیے بائیں کی جانب جانے کی بجائے تھوڑا دائیں گیا۔ تو وہ ایل او سی کے بہت قریب تھا۔ عموماً یہ ہوتا ہے کہ چوٹیوں کے اوپر سے چلے جاتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ موسم بہت صاف تھا اور پائلٹ کو یہ خطرہ نہیں تھا کہ وہ ایل او سی کے پار چلا جائے گا کیونکہ سب صاف نظر آ رہا تھا۔

انھوں نے کہا ’پائلٹ کی فوج میں 29 سال سروس ہے اور 11 سال سے اس نجی کمپنی کے ساتھ ہے۔ اس کو علاقے کا پتا بھی ہے اور وہ ادھر جا بھی چکا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایل او سی کی اس علاقے میں تین کلومیٹر کی پٹی پر پانچ لاکھ لوگ رہتے ہیں اور انڈین فورسز فائرنگ کر کے جانی اور مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ خاص ایریا ہے جہاں انڈین فورسز فائرنگ کرتے رہتے ہیں۔‘