آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نواز شریف کی محبت میں ایک لاکھ کی بھینس تین لاکھ میں
- مصنف, عابد حسین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
دس روز قبل جب وزیر اعظم ہاؤس کے وسیع و عریض سبزہ زار پہنچا تھا تو وہاں نیلامی کی غرض سے پرتعیش گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں جہاں کروڑوں روپے مالیت کی مرسیڈیز، بی ایم ڈبلیو اور لینڈ کروزر خریداروں کے انتظار میں دھوپ میں تپتی رہیں لیکن انھیں خریدار نہ ملا لیکن جمعرات کو وہاں کچھ اور ہی منظر دیکھنے کو ملا۔
وزیراعظم ہاؤس کے عقبی دروازے جانے والی روڈ فورتھ ایونیو پہنچا اور وہاں کھڑے سکیورٹی اہلکار کو بحیثیت صحافی اپنی شناخت کرائی تو اس نے 'اچھا، مجاں واسطے آیاں اے' کہہ کر میرے لیے فوراً رکاوٹ ہٹا دی۔
وجہ شاید نسبتاً کم خریداروں کی موجودگی تھی۔ تاہم آج بھی درجنوں افراد پی ایم ہاؤس میں ان آٹھ بھینسوں کی نیلامی میں شرکت کرنے آئے تھے جن کا دودھ سابق وزیر اعظم نواز شریف استعمال کرتے رہے تھے۔
اس بار نیلامی میں منظر کچھ مختلف تھا۔ نہ بڑا سا پنڈال سجا تھا، نہ پہلے والی نیلامی جیسا نظم و ضبط تھا، نہ ہی سوٹ میں ملبوسات افسران کی موجودگی اور نہ ہی وہ ڈائس جس پر موجود نیلامی کے میزبان جو مائیک پر گاڑیوں کی بولی کرا رہے تھے۔
ایک اور جو بات احساس دلا رہی تھی کہ یہ ذرا مختلف نوعیت کی نیلامی ہے، وہ فضا میں وقتاً فوقتاً بلند ہونے والی آوازیں تھیں جو وہاں کھڑی آٹھ بھینسوں کی جانب سے بلند ہو رہی تھیں۔
ایک جگہ پر کچھ رش تھا جہاں درختوں کے سائے تلے، ایک میز پر نیلے کرتے شلوار اور کالے رنگ کا چشمہ پہنے ایک صاحب کھڑے تھے اور ہاتھوں میں فائل اٹھائے آوازیں لگا رہے تھے۔ جب وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ جاوید صاحب ہیں جو نیلامی کی میزبانی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
صبح 11 بجے شروع ہونے والی نیلامی سو سے زائد خریداروں کی موجودگی میں ایک گھنٹے تک جاری رہی اور اس کامیاب نیلامی میں نیلی راوی نسل کی تین بھینسوں، چار بچھیا اور ایک بچھڑے کی فروخت سے حکومت پاکستان کو 23 لاکھ روپے کی آمدن ہوئی۔
فروخت کیے جانے والے جانوروں میں سب سے مہنگی بولی ایک آٹھ سالہ بھینس کی لگی جو 385000 روپے میں فروخت ہوئی۔ یہ بھینس 2014 سے پی ایم ہاؤس میں تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے حسن لطیف نے بھی دو سالہ بھینس خریدی جس کے لیے ان کی کامیاب بولی 305000 روپے تھی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پرانے حمایتی ہیں اور اس نیلامی میں ان کی شرکت کی وجہ بھی نواز شریف ہی ہیں۔
'ویسے تو یہ بھینس ایک لاکھ روپے کی ہے اور میرے پاس اپنا ذاتی فارم ہے جہاں سو سے زائد بھینسیں ہیں لیکن میں نے میاں صاحب کی محبت کے نام پر یہ 305000 روپے کی بھینس خریدی ہے اور اگر مجھے موقع ملا تو میں یہ ان کو تحفتاً پیش کرنا چاہوں گا۔'
تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والے ایک اور خریدار رانا شعیب تھے جو 268000 کی ایک بچھیا خریدنے میں کامیاب ہوئے۔
'ہمارے اپنا کاروبار تو سونے کا ہے لیکن ہم نے اپنے ذاتی استعمال کے لیے یہ بھینس لی ہے اور ایک سابق وزیر اعظم کی استعمال کی ہوئی بھینس کی خاص بات ہوتی ہے۔'
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں یہ بھینسیں وزیر اعظم ہاؤس میں ان کے خاندان کے لیے تھیں جہاں ان کا دودھ استعمال ہوتا تھا۔ نیلی راوی نسل کی بھینسوں کا دودھ اپنے منفرد معیار کی وجہ سے مشہور ہے۔
وہاں موجود پی ایم ہاؤس کے ایک اہلکار سے جب میں نے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ یہاں ان بھینسوں کی نیلامی ہوئی ہو اور اس سے پہلے ایک دو بار ایسا ہو چکا ہے لیکن اب اس نیلامی کے بعد وہاں کوئی اور جانور باقی نہیں رہا۔
انھوں نے مزید وضاحت کی کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کے برعکس ان ان میں سے کسی بھی بھینس کو کوئی نام نہیں دیا گیا تھا اور نواز شریف کی معزولی کے بعد ان بھینسوں کا دودھ پی ایم ہاؤس کے کچن میں مہمانوں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
'یہ بھینسیں صرف ذاتی استعمال کے لیے تھیں، نہ کہ کسی کاروباری مقصد کے لیے۔'
نیلامی کی میزبانی کرنے والے پی ایم ہاؤس کے اہلکار محمد جاوید سے جب میں نے بات کی تو انھوں نے کہا کہ نیلامی ان کی توقعات سے بڑھ کر کامیاب ہوئی ہے۔
'یہ صرف کامیاب نیلامی نہیں تھی بلکہ یہ 'بہت کامیاب' نیلامی تھی اور ہم اس کے نتیجے سے بہت خوش ہیں۔'
لیکن چند خریدار اس نیلامی سے مطمئن نہیں تھے اور انھوں نے اپنے شکوک کا اظہار بھی کیا۔ راولپنڈی کے ضمیر خان نے کہا کہ یہاں بیچی جانے والی بھینسیں بہت مہنگی ہیں اور بازار میں اس سے کہیں سستی قیمت میں اس نوعیت کے جانور مل سکتے ہیں۔
'مجھے تو شک ان خریداروں پر ہے کہ کیا وہ اصل خریدار ہیں بھی یا نہیں۔'
نیلامی کے دوران ایک خریدار نے ایک نو ماہ کی بچھیا کی بڑھتی ہوئی قیمت پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تو وہاں موجود ایک اور خریدار نے جملہ کسا کہ 'یہ صرف دودھ نہیں بلکہ ساتھ میں گھی بھی دیتی ہے۔'
یاد رہے کہ چند روز قبل پی ایم ہاؤس میں لگژری گاڑیوں کی بھی نیلامی ہوئی تھی جہاں حکومت 102 میں سے 62 گاڑیاں فروخت کرنے میں کامیاب ہوئی تھی تاہم اندازوں کے برعکس صرف چھ سے آٹھ کروڑ روپے ہی قومی خزانے میں آ سکے۔
اب گاڑیوں اور بھینسوں کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں چار ہیلی کاپٹروں کی نیلامی بھی ہونا باقی ہے جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی پرواز کے قابل نہیں۔
ایسی خبریں ہیں کہ ان ہیلی کاپٹروں کو ایک خریدار مل بھی گیا ہے سو اب دیکھنا یہ ہے اس نیلامی کے بعد حکومتی خزانے میں کیا آتا ہے؟