محرم میں شلۂ گوشتی کی نیاز

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

محرم کے ایام میں پاکستان بھر میں مختلف پکوان تیارکیے جاتے ہیں، لیکن صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک ایسے کھانے سے نیاز دی جاتی ہے جو کہ کہیں اور نہیں بنتا۔

حلیم سے ملتے جلتے اس پکوان کا نام شلۂ گوشتی ہے۔

ساتویں،آٹھویں اور نویں محرم کو شلۂ گوشتی علمدار روڈ پر تیار کیا جاتا ہے، جسے کھانے کے لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوتی ہے ۔

مزید پڑھیے

اس میں چاول ،چھولے، سرخ لوبیا، سفید لوبیا اور گوشت ڈالا جاتا ہے اور آخر میں اسے گھی، ادرک اور لہسن کا تڑکا دیا جاتا ہے۔

شلۂ گوشتی کو بننے میں 10 سے 12 گھنٹے لگتے ہیں۔

شلۂ گوشتی کھانے کے منتظر ایک نوجوان نے بتایا کہ یہ سال میں صرف محرم کے ایام میں بنایا جاتا ہے، جس کے باعث لوگ اس کو کھانے کے لیے کئی گھنٹے انتظار کرتے ہیں۔

وحید احمد جعفری کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو کہ اس پکوان کو بنانے کے ماہر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کے کسی اور علاقے میں نہیں، صرف کوئٹہ میں ہی بنتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ افغانستان سے یہاں آنے والی یوسف زئی برادری کی ڈش ہے اور انھی نے اسے کوئٹہ میں متعارف کرایا۔