چیف جسٹس کا چھاپہ اور آصف زرداری کا جملہ

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس، ثاقب نثار نے اپنے دورہ کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما شرجیل انعام میمن کے ہسپتال کے کمرے کا دورہ کیا جہاں سے مبینہ طور پر شراب کی بوتلیں برآمد ہونے پر فوری طور پر پارٹی کے رہنما کو سینٹرل جیل منتقل کرنے کا حکم دیا گیا۔

سندھ کے سابق وزیر اطلاعات و نشریات شرجیل انعام میمن کو گذشتہ سال اکتوبر میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے پانچ ارب کی کرپشن کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی تھی لیکن طبعیت کی ناسازگی کی وجہ سے پہلے انھیں سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا اور اس سال مئی میں انھیں نجی ہسپتال میں وی آئی پی کمرے میں منتقل کر دیا گیا جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

چیف جسٹس نے کہا کہ شرجیل انعام میمن کے کمرے سے شراب کی تین بوتلیں برآمد ہوئی ہیں لیکن انھوں نے اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

شرجیل میمن کو جیل بھجوانے کے علاوہ ان کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا گیا جن کا کہنا تھا کہ شراب کی بوتلوں میں 'شہد' اور 'تیل' تھا۔

شرجیل میمن کے کمرے پر چیف جسٹس کے چھاپے پر جب پاکستان کے سابق صدر اور پی پی پی کے شریک چئیرمین آصف زرداری سے سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ' جس ملک میں چیف جسٹس 'چھاپے' مارے ہم کیا کہیں پھر۔۔'

پی پی پی کے ایک اور رہنما سید ناصر حسین شاہ نے بھی شرجیل میمن کا دفاع کرتے ہوئے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان بوتلوں میں 'شہد' اور 'زیتون کا تیل' تھا۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شرجیل میمن اور جسٹس ثاقب نثار کا نام ٹرینڈ کرنا شروع ہو گیا اور لوگوں کی جانب سے کئی دلچسپ تبصرے سامنے آئے۔

ایک صارف ریما سکندر میمن نے سوال اٹھایا کہ 'مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ شہد اور تیل ہمیشہ شراب کی بوتلوں میں ہی کیوں رکھا جاتا ہے؟'

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فیصل رضا عابدی نے بھی اسی نوعیت کی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ 'اب جادو دیکھو، شراب بدل جائے گی شہد اور بالوں کے تیل میں۔'

صحافی مطیع اللہ جان نے ٹویٹ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ شروع ہوتی ہے عتیقہ اوڈھو سے ایک بوتل شراب برآمد کرنے سے لے کر شرجیل میمن سے تین بوتل شراب برآمد کرنے تک۔ شاباش معزز جج صاحبان، ایسا ہی کرتے رہیں۔'

ڈان ٹی وی سے منسلک صحافی مبشر زیدی نے ٹویٹ میں کہا کہ 'شرجیل میمن واحد مریض ہیں جو اپنی دوا خود تیار کرتے ہیں۔'

جیو ٹی وی سے وابستہ صحافی بینظیر شاہ نے چیف جسٹس کے ہسپتال کے دوروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو ریئلٹی ٹی وی شو ہونا چاہیے۔

دوسری جانب چیف جسٹس کے مداحوں کا کہنا تھا کہ ان کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔

صارف خرم علی لکھتے ہیں کہ 'ہمارے ملک مصائب کا شکار ہے اور صرف آپ جیسے لوگ ہی ہمیں اس بھنور سے نکال سکتے ہیں۔'

پی ٹی آئی کے صوبائی رکن اسمبلی کا شہری کو تھپڑ مارنے کا معاملہ

دوسری جانب چیف جسٹس ثاقب نثار نے پی ٹی آئی کے صوبائی رکن اسمبلی عمران علی شاہ کے شہری کو تھپڑ مارنے کے معاملے میں از خود نوٹس کی سماعت کی جس میں انھوں نے رکن اسمبلی کی سخت سرزنش کی اور انھیں سپریم کورٹ کے ڈیم فنڈ میں 30 لاکھ روپے جمع کرانے کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ عمران علی شاہ نے گذشتہ ماہ ایک شہری کو تھپڑ مارا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر رد عمل سامنے آنے کے بعد پارٹی نے ان کو شو کاز نوٹس جاری کیا تھا اور پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

اس کے علاوہ شہری داؤد چوہان نے عمران علی شاہ سے ملاقات کی تھی اور ان دونوں کے درمیان تصفیہ ہو چکا ہے۔

اس معاملے پر بھی سوشل میڈیا پر کافی رد عمل سامنے آیا۔

صارف عامر رضا نے جرمانے کی رقم ڈیم فنڈ میں جمع کرانے پر کہا کہ ' قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے اور جرم جرم ڈیم۔'

ایک اور صارف جیکب احمت نے عمران علی شاہ اور شرجیل میمن کے ساتھ ہونے والے واقعات پر مشترکہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ' معافی ملنے کے باوجود عمران شاہ کو 30 لاکھ روپے ادا کرنے پڑے اور وہ بھی شہری کو نہیں بلکہ سپریم کورٹ کو۔ اور دوسری جانب شرجیل میمن کو بغیر تحقیق اور تفتیش کیے میڈیا ٹرائل کے لیے پیش کر دیا گیا۔ انصاف اپنے عروج پر!'