شاہ محمود قریشی: ’پاکستان مشکل کی گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے‘

    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان نے امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے یکطرفہ انحراف پر ایران کے اصولی موقف کی حمایت کی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق یہ یقین دہانی پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کے ساتھ مذاکرات میں کروائی۔

پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ کسی بھی اعلیٰ غیر ملکی وفد کا پہلا دورہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کل دور روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے۔ انھوں نے گذشتہ روز سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کی لیکن آج وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی علحیدہ علحیدہ ملاقاتیں کیں۔

وزیر خارجہ کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات میں ایرانی مہمان نے نئی حکومت کو مبارک باد دی۔

مذاکرات میں علاقائی اور عالمی امور پر بھی بات ہوئی جس میں افغانستان کی صورتحال اور جوہری معاہدے سے یک طرفہ امریکی انخلا شامل ہے۔

مزید پڑھیے

شاہ محمود قریشی نے امید کا اظہار کیا ہے کہ جوہری معاہدے میں شامل دیگر فریق اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نمٹائیں گے کیونکہ عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے نے کئی مرتبہ ایران کی جانب سے معاہدے کی پاسداری کی تصدیق کی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان اور ایران کے مابین مشترکہ سرحد پر شدت پسندوں کی موجودگی اور ایران گیس پائپ لائن اہم مسائل رہیں ہیں۔ مشترکہ بیان میں اس کے متعلق کوئی نئی بات نہیں کی گئی تاہم اس پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک مشترکہ سیاسی اور اقتصادی کمیشنوں کے اجلاس جلد طلب کریں گے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ کو یقین دلایا گیا کہ پاکستان خطے میں امن و سلامتی کے لیے خلوص سے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ سال دو ہزار تیرہ میں وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے یہ جواد ظریف کا پاکستان کا آٹھواں دورہ ہے۔

دونوں ممالک باہمی تجارت کا حجم آئندہ پانچ برسوں میں پانچ ارب ڈالرز تک بڑھانے کا پہلے ہی ارادہ کر چکے ہیں۔

گذشتہ ماہ ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد بغیری بھی ایک اعلی سطحی وفد کے ساتھ اسلام آباد کا دورہ کرچکے ہیں۔ ان دوروں سے دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کی اہمیت بظاہر ظاہر ہوتی ہے۔