آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ہم دیکھیں گے کہ یہ ایوان کیسے چلاتے ہیں، یہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ہے: مولانا فضل الرحمن
پاکستان میں سابق حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی جماعتوں نے 25 جولائی کے انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ’تمام سیاسی جماعتیں پورے اتفاق رائے کے ساتھ منعقدہ انتخابات کو مسترد کرتی ہیں، کیونکہ یہ عوام کا مینڈیٹ نہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اُن (پاکستان تحریک انصاف) کی اکثریت کے دعوے کو تسلیم نہیں کرتے، اسے چیلنج کرتے ہیں‘۔
سیاسی جماعتوں کے اجلاس شہباز شریف نے کی جس میں ایم ایم اے،اسفندیار ولی، حاصل بزنجو، محمود خان اچکزئی، فاروق ستار، آفتاب خان شیرپاؤ، مصطفیٰ کمال نے شرکت کی۔
اسی بارے میں
مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ تمام جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ان کے منتخب نمائندگان ایوان میں جاکر حلف نہیں اٹھائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’دھاندلی کے خلاف سیاسی جماعتیں متحد ہیں دوبارہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تحریک چلائیں گے۔ احتجاج کریں گے۔ جس کا طریقہ کار ایک دو دن میں طے کیا جائے گا۔ ‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسلم لیگ کا فیصلہ مشاورت کے بعد
تاہم اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف نے کہا کہ وہ ایوان میں نہ جانے کے حوالے سے اپنی پارٹی کا فیصلہ پارٹی مشاورت کے بعد سنائیں گے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا ’جہاں تک حلف نہ اٹھانے کی بات ہے، مجھے اس کے لیے وقت چاہیے۔ تاہم تحریک چلانے اور جلسے کرنے پر ہم متفق ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی سے مشاورت کے بعد ہی اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات کے نتائج مسترد کیے لیکن ایوان میں جائیں گے
حالیہ انتخابات میں تیسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آنے والی پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی انتحابی نتائج کو مسترد کردیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت بار بار سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے سنہ 2013 کے انتخابی نتائج کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا لیکن اب برداشت نہیں کریں گے۔ ہم ان انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہیں۔‘
انتخابی نتائج مسترد کیے جانے کے باوجود پیپلز پارٹی نے ایوان میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہ اے پی سی میں شامل دیگر جماعتوں سے بھی بات کریں گے اور انہیں بھی پارلیمان میں جا کر احتجاج پر قائل کریں گے۔
بلاول بھٹو نے نے الیکشن کمیشن کے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن استعفی دے دے کیونکہ انھوں نے آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا اپنا فرض پورا نہیں کیا۔‘
مولانا فضل الرحمن نے بھی الیکشن کمیشن پر ایسے ہی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے پارلیمان میں الیکشن کمیشن کے لیے اربوں روپے مختص کروائے لیکن پھر بھی ادارے کا نتائج پر اختیار نہیں رہا۔‘