آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دیر: خواتین کے ویران پولنگ سٹیشن سے طویل قطاروں تک
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو، دیر پائیں
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قدامت پسند سمجھے جانے والے مالاکنڈ ڈویژن کے دو اضلاع دیر پائیں اور دیر بالا میں پاکستان بننے کے بعد سے پہلی مرتبہ خواتین نے انتخابی عمل میں بڑی تعداد میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔
دیر پائیں اور دیر بالا کے آٹھ صوبائی اور تین قومی اسمبلی کے حلقوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مجموعی طورپر تقریباً 40 فیصد خواتین نے حالیہ انتخابی عمل میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا جسے اس علاقے میں ایک ریکارڈ کہا جارہا ہے۔
دیر پائیں میں الیکشن کے روز خواتین کے پولنگ سٹیشنز پر ایسے مناظر دیکھنے کو ملے جو شاید اس علاقے میں پہلے نظر نہیں آئے تھے۔ بیشتر پولنگ سٹیشنز پر صبح سے ہی شٹل کاک برقعوں میں ملبوس خواتین کا جوش خروش دکھائی دیا، تاہم 12 بجے کے بعد اس تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔
بعض پولنگ سٹیشنز پر خواتین لمبی لمبی قطاروں میں نظر آئیں جہاں پولنگ عملے اور سکیورٹی اہلکاروں کو ووٹروں کو ترتیب کے ساتھ کھڑا کرنے میں مشکلات کا سامنا بھی رہا۔
دیر پائیں کے علاقے رباط میں سڑک سے چند فرلانگ کے فاصلے پر خواتین کا ایک پولنگ سٹیشن قائم کیا گیا تھا۔ اس پولنگ سٹیشن پر خواتین ووٹروں کی تعداد سب سے زیادہ نظر آئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ عورتوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ کئی خواتین ووٹ ڈالے بغیر گھروں کو واپس چلی گئیں۔ اس پولنگ سٹیشن میں رش کی وجہ سے انتخابی عمل سست روی کا شکار رہا اور خواتین کو کئی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑا۔
رباط کے ایک باشندے رحمت اللہ سواتی نے بتایا کہ ان کی اہلیہ ووٹ ڈالنے گئی تھیں لیکن پولنگ سٹیشن میں رش اور گرمی کی وجہ سے وہ حق رائے دہی کا استعمال کیے بغیر واپس گھر چلی آئیں۔
انھوں نے کہا کہ انھیں خود بھی یقین نہیں آرہا کہ ان انتخابات میں خواتین اتنی بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکلیں گی۔
دیر کے دونوں اضلاع میں اس سے پہلے خواتین کے پولنگ سٹیشنز مردوں کے پولنگ سٹیشنوں سے متصل بنائے جاتے تھے لیکن اس الیکشن میں پہلی مرتبہ عورتوں کے زیادہ تر پولنگ سٹیشنز الگ الگ مقامات پر قائم کیے گئے تھے جس میں پردے کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔
مختلف پولنگ سٹیشنوں کے دورے کے دوران کئی خواتین نے یہ شکایت بھی کی کہ کچھ مقامات پر پولنگ بوتھ پہاڑی اور دور دراز کے مقامات پر قائم کئے گئے جس کی وجہ سے بوڑھی عورتوں کو وہاں تک جانے میں مشکلات کا سامنا رہا۔
بعض مقامات پر پولنگ عملے کی کمی بھی نظر آئی جس کے باعث خواتین کو گھنٹوں تک گرمی کی حالت میں برقعوں میں انتظار کرنا پڑا۔
دیر میں حالیہ انتخابات کی خاص بات یہ تھی کہ جن علاقوں سے کبھی خواتین کو آزادانہ طور پر ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رکھا گیا وہاں پہلی مرتبہ جنرل نشستوں پر دو خواتین امیدواروں نے حصہ لیا۔
دیر بالا کے صوبائی حلقے سے تحریک انصاف کی امیدوار حمیدہ شاہد اور دیر پائین کی قومی اسمبلی کی نشست سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صوبیہ خان نے بحیثیت امیدوار حصہ لیا۔ اگرچہ دونوں خواتین انتخابات تو ہار گئیں لیکن ان کی انتخابی عمل میں شرکت کو مقامی خواتین نے خوش آئندہ قرار دیا ہے۔
منصور آباد کے پولنگ سٹیشن میں پہلی مرتبہ حق رائے دہی کا استعمال کرنے والی یونیورسٹی کی ایک طالبہ گلالئی نے کہا کہ دیر کی عورتیں پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نکلی ہیں جو ایک بڑی تبدیلی سے کم نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ماضی میں یہاں بدقسمتی سے خواتین کو نام نہاد روایات کے نام پر ان کو ووٹ دینے کے حق سے محروم رکھا لیکن یہ پابندیاں مزید نہیں چل سکتی کیونکہ اب عورتیں باشعور ہوگئی ہیں۔
دیر میں کئی سالوں سے خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم سماجی کارکن شاد بیگم کا کہنا ہے کہ دونوں اضلاع میں جس دلیری سے عورتوں نے اپنا حق استعمال کیا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ انھوں نے کہا کہ شاید ان انتخابات میں قوانین نے اپنا کام کر دکھایا ہے جس نے امیدواروں کو مجبور کیا کہ وہ خواتین کو انتخابی عمل میں شامل کریں۔
ان کے مطابق حالیہ الیکشن میں پہلی مرتبہ کسی علاقے سے ایسی کوئی اطلاع نہیں آئی جہاں خواتین کو حق رائے دہی سے روکا کیا گیا ہو یا کسی پر اس ضمن میں دباؤ ڈالا گیا ہو۔
الیکشن قوانین کے مطابق ہر حلقے میں دس فیصد تک خواتین کے ووٹ لازمی قرار دیے گئے تھے بصورت دیگر وہاں انتخابات کالعدم قرار دیے جاسکتے تھے۔
خیال رہے کہ ماضی میں مالاکنڈ ڈویژن کے کئی اضلاع بالخصوص دیر پائین اور دیر بالا میں امیدواروں کی طرف سے نام نہاد معاہدے اور جرگے ہوتے رہے ہیں جس کے تحت خواتین کو ووٹ ڈالنے کے حق سے روکا جاتا رہا ہے۔ ان معاہدوں میں مذہبی جماعتیں پیش پیش رہی ہیں اور حیران کن طور پر ان میں خود کو سیکولر اور آزاد خیال کہنے والی جماعتیں بھی شامل رہی ہیں۔