آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
الیکشن 2018: ووٹ ڈالنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
پاکستان میں بدھ کو عام انتخابات میں دس کروڑ 60 لاکھ کے قریب ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے جا رہے ہیں لیکن پولنگ سٹیشن جانے سے پہلے ووٹ ڈالنے کے بارے میں جاری کیے گئے ہدایت نامے پر ایک نظر لازمی ڈالتے جائیں تاکہ آپ کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور نہ ہی آپ کا ووٹ ضائع ہو۔
الیکشن کمیشن کے ہدایت نامے میں سب سے اہم چیز آپ کا قومی شناختی کارڈ ہے کیونکہ ووٹ صرف اور صرف اصل شناختی کارڈ ہونے کی صورت میں ڈال سکیں گے چاہے وہ زائد المیعاد ہی کیوں نہ ہو۔ اصل شناختی کارڈ کے علاوہ نہ تو اس کی فوٹو کاپی چلے گی اور نہ ہی ڈرائیورنگ لائسنس، پاسپورٹ سمیت دوسری کوئی شناختی دستاویز تسلیم کی جائے گی۔
اس کے علاوہ یہ بھی یاد رہے کہ پولنگ سٹیشن میں کیمرا یا فون لے جانے کی اجازت نہیں ہے اور خواتین اپنا دستی بیگ نہ لائیں کیونکہ اس صورت میں آپ کو زحمت کا سامنا کرنا پر سکتا ہے اور موبائل فون اور بیگ کو محفوظ جگہ پر رکھنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
الیکشن 2018 سے متعلق یہ بھی پڑھیے
آپ کا ووٹ ضائع کیسے ہو سکتا ہے؟
اصل شناختی کارڈ کے بعد ووٹ ڈالنے کا مرحلہ آتا ہے جس میں طریقۂ کار سے ہٹ کر ووٹ ڈالنے کی صورت میں آپ کا ووٹ ضائع ہو سکتا ہے اور ہر عام انتخابات میں اسی وجہ سے ایسے ووٹ بھی اچھی تعداد میں سامنے آتے ہیں جنھیں رد کر دیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تو اس صورتحال سے بچنے کے لیے الیکشن کمیشن نے ماضی کی طرح اس بار بھی ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں پہلی احتیاط یہ ہے کہ آپ اپنا بیلٹ پیپر حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے دیکھیں کہ آیا اس پر سرکاری کوڈ کا نشان موجود ہے اور اس کے ساتھ پریزائیڈنگ افسر کے دستخط موجود ہیں اور اس پر الیکشن کمیشن کا واٹر مارک موجود ہے، اگر ایسا نہیں تو آپ کا بیلٹ پیپر قابل استعمال نہیں اور اگر ووٹ ڈال دیا تو یہ شمار نہیں کیا جائے گا۔
دوسری احتیاط یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے عملے کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری مہر کا استعمال کریں اور یہ سرکاری مہر نو چھوٹے چھوٹے ڈبوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
بعض اوقات یہ اطلاعات سامنے آتی ہیں کہ ووٹر اپنے امیدوار کو یہ یقین دلانے کے لیے کہ ووٹ اسے ہی دیا تھا، کوئی نہ کوئی نشانی بیلٹ پیپر پر لگا دیتا ہے جیسا کہ کوئی کاغذ یا کسی قسم کی چیز یا قلم سے کوئی نشانی وغیرہ۔ اگر ان میں سے کسی قسم کا نشان بیلٹ پیپر پر دیکھائی دیا تو سمجھیں آپ کا ووٹ یقینی طور پر ضائع ہو چکا ہے۔
تیسری اہم چیز جس کو تقریباً تمام ووٹر اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ وہ صرف قومی اور صوبائی حلقے کے ایک ایک امیدوار کو ہی ووٹ دے سکتے ہیں۔ اس صورت میں صرف اپنے امیدوار کے انتخابی نشان کے سامنے ہی مہر لگائیں اور یہ نشان والے ڈبے کے اندر ہی ہونی چاہیے۔
اگر ایک سے زیادہ نشانوں پر مہر لگائی تو ووٹ ضائع ہو جائے گا لیکن اگر غلطی سے مہر کسی اور نشان پر لگا لی ہے تو اس صورت میں عملے سے رجوع کیا جا سکتا ہے وہ آپ کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ سرکاری مہر ایک بار امیدوار کے انتخابی نشان پر لگانے کا مطلب ہو گا کہ آپ قوانین کے تحت اس بیلٹ پیپر پر موجود دیگر امیدواروں کو مسترد کر چکے ہیں اور اس کے لیے آپ کو مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔
ان دنوں سماجی رابطوں پر کچھ ویڈیوز سامنے آئی ہیں کہ آپ اپنے امیدوار کے نشان پر ووٹ کی مہر لگائیں اور دوسرے امیدوار کے نشان پر اپنی ناپسندیدگی ظاہر کرنے کے لیے کراس یا کوئی اور نشان لگائیں۔ یہ بالکل غلط ہے، اس صورت میں آپ کا ووٹ ضائع ہو جائے گا۔
رنگ
بیلٹ پیپر کے حوالے سے معلومات یہ ہیں کہ سبز بیلٹ پیپر قومی اسمبلی کے لیے اور سفید بیلٹ پیپر صوبائی اسمبلی کے لیے ہے اور جس ڈبے میں ووٹ کی پرچی ڈالی جائے گی ان کے رنگ بھی سفید اور سبز ہوں گے۔
چند دیگر سہولیات اور ہدایات
پولنگ بدھ کی صبح آٹھ بجے شروع ہو گی اور شام چھ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔ چھ بجے کے بعد جو لوگ پولنگ سٹیشن میں ہوں گے، وہ ووٹ ڈال سکیں گے مگر باہر سے کوئی نہیں آ سکے گا۔
الیکشن کمیشن بزرگ، حاملہ خواتین، شیر خوار بچوں والی خواتین، معذور افراد اور خواجہ سرا پولنگ سٹیشن پر ترجیحی سلوک کے مستحق ہیں۔
ووٹر، انتخابی عملے، سکیورٹی اہلکار اور پولنگ سٹیشن پر موجود دیگر افراد پر لازم ہے کہ وہ ووٹ کی راز داری کو یقینی بنائیں۔
پریزائیڈنگ افسر سکیورٹی اہلکار کی تعاون سے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ووٹروں کو پولنگ سٹیشن پر پرامن دوستانہ، اور محفوظ ماحول میسر ہو اور ووٹروں کو کسی بھی صورت میں ووٹنگ سے روکنے کے لیے ڈرایا یا دھمکایا نہ جا سکے۔