ڈیرہ اسماعیل خان: ’حسنین نے گھر پر بتایا کہ تبلیغ کے لیے جا رہا ہے لیکن پھر واپس نہیں آیا‘

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک ہی محلے سے لاپتہ ہونے والے آٹھ نوجوان لڑکوں کو آٹھ روز گزر جانے کے باوجود اب تک تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔

ان لڑکوں کے والدین کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں معلوم کہ بچوں کو اغوا کیا گیا ہے یا وہ خود کہیں چلے گئے ہیں۔

لاپتہ ہونے والے لڑکوں میں ایک محمد حسنین معاویہ کے خاندان والوں کے مطابق ’وہ نویں جماعت کے طالب علم، حافظ قرآن اور پانچ وقت کے نمازی ہیں‘۔

محمد حسنین معاویہ کے والد انعام اللہ گنڈہ پور نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بیٹے میں کوئی بری عادت نہیں تھی اور نا ہی ان کے دوستوں میں کوئی ایسا تھا جو بری عادتوں کا مالک ہو۔

یہ بھی پڑھیے

انعام اللہ نے کہا کہ 20 جون کو حسنین نے گھر میں بتایا کہ وہ تبلیغ کے لیے جا رہا ہے، اسی دوران اس کا ایک دوست حمزہ آیا اور ان کا بیٹا اپنے دوست کے ساتھ چلا گیا اور پھر اب تک واپس نہیں آیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے تبلیغی مرکز جا کر معلومات حاصل کیں تو انھیں بتایا گیا کہ اس نام اور عمر کے لڑکے ان کے پاس نہیں آئے۔

ایک اور لاپتہ لڑکے ابو بکر کی والدہ نے بتایا کہ جب سے ان کا بیٹا گیا ہے ان کے گھر میں سب بہت پریشان ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ عید کے چوتھے روز یہ سب لڑکے پکنک منانے منانے دھانہ سر (ڈیرہ اسماعیل خان سے پچاسی کلومیٹر دور بلوچستان کی سرحد پر) گئے تھے لیکن اس سے پہلے یہ کبھی اس طرح کہیں نہیں گئے تھے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے محلہ حیات اللہ اور اس کے قریبی گلی کوچوں سے آٹھ نوجوان لڑکے 20 جون سے لاپتہ ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق لاپتہ ہونے والے لڑکوں کے والدین کی درخواست پر انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔

پولیس انسپیکٹر دمساز نے بتایا کہ انھوں نے موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کر لیا ہے اور اس کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

پولیس انسپیکٹر دمساز کا کہنا تھا کہ انھیں تاحال ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی جس سے وہ ان لڑکوں کو تلاش کر سکیں تاہم اس بارے میں کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اس واقعے کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر محمد سلیم نے بتایا کہ ان کے پاس سات لڑکوں کے والدین کی شکایات موصول ہوئی ہیں صرف ایک لڑکے اسامہ کے والدین یا کسی رشتہ دار کی جانب سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

بچوں کے والدین کے مطابق ’تمام بچے انتہائی شریف اور قریبی دوست ہیں‘۔