آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عمران خان کا پرائیوٹ طیارہ فوجی اڈے سے اڑنے پر جواب طلب
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمرے کی ادائیگی کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا نجی جہاز فوج کے زیر انتظام نور خان ایئربیس سے اڑنے اور پھر وہیں لینڈ کرنے کے معاملے پر وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکرٹری کو 27 جون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ حکم ایک درخواست گزار کی استدعا پر دیا ہے جس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ ایک سیاستدان کا پرائیویٹ جہاز فوج کے زیر انتظام ایئربیس سے کیسے اڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنی اہلیہ اور قریبی دوست ذلفی بخاری کے ہمراہ ایک نجی جہاز پر عمراہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہوئے تھے۔
یہ جہاز راولپنڈی کے نور خان ایئربیس سے روانہ ہوا تھا اور پھر تین روز بعد اسی بیس پر لینڈ بھی کیا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل انعام الرحیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیسے فوج کے زیر انتظام ایئربیس کو ایک سیاستدان کو استعمال کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اسی ایئر بیس سے عمران خان کے قریبی ساتھی ذلفی بخاری کا نام صرف دو گھنٹے میں بلیک لسٹ سے نکال کر انھیں سعودی عرب جانے کی اجازت دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درخواست گزار کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ نگراں وزیر داخلہ اعظم خان عمران خان فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ہیں تو ایسے میں شفاف انتخابات کی توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے۔
نیب کے پراسکیوٹر مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ اُنھوں نے ذلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے لیے کہا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ نیب نے ذلفی بخاری کو پیش ہونے کے لیے متعدد نوٹس بھیجے ہیں لیکن اُنھوں نے کسی نوٹس کا جواب نہیں دیا۔
سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ عامر فاروق نے وزارت داخلہ کے اہلکار کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جیسے اس کیس میں پھرتی دکھائی گئی ہے ویسے عام عوام کے لیے بھی ہونی چاہیے۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ دیگر کیسز میں تو عدالتی حکم کے باوجود سفر کی اجازت دینے میں ہفتے لگا دیے جاتے ہیں لیکن ذلفی بخاری کے معاملے میں صرف دو گھنٹے میں ہی ان کا نام بلیک لسٹ سے نکال دیا گیا۔
عدالت نے وزارت داخلہ کے اہلکار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی کا نام بلیک لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے تو سفری دستاویزات تحویل میں لے لی جاتی ہیں لیکن کیا ذلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرتے ہوئے سفری دستاویزات کو تحویل میں لیا گیا۔
وزارت داخلہ کے اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ پاسپورٹ ذلفی بخاری کے پاس تھا، تحویل میں نہیں لیا گیا۔ عدالت نے وزارت داخلہ سے اس معاملے پر تفصیلی جواب طلب کرلیا ہے۔