ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ، نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف تحقیقات ہو گی

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ مبینہ طور پر من پسند کمپنی کو دینے کے معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

نیب کا کہنا ہے کہ من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا 15 برس کے لیے ٹھیکہ دینے سے قومی خزانہ کو مبینہ طور پر اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

تاہم نیب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کس ایل این جی ٹرمینل کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کیا جا رہا ہے کیونکہ اس وقت ملک میں دو ٹرمینل کام کر رہے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

بدھ کو نیب کے بیان کے مطابق قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ایگزیکٹو بورڈ نے سابق وزیراعظم نواز شریف،سابق وزیر پٹرولیم اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قواعد کے برخلاف من پسند کمپنی کوایل این جی ٹرمینل کا 15 سال کے لیے ٹھیکہ دینے کے الزام میں انکوائری کی منظوری دی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹھیکے کی وجہ سے قومی خزانے کو مبینہ طور پراربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے قطر سے ایل این جی گیس برآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے مخالفت کی تھی اور بعد میں اس میں بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جب قومی اسمبلی سے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے تو اس وقت اپنے خطاب کے دوران جب وہ سابق وزیر اعظم کے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے ایل این جی پر بات کرنے لگے تو ایوان میں کہیں سے ان کے خلاف ایل این جی کے معاہدے میں بے ضابطگیوں کے بارے میں قومی احتساب بیورو میں ایک انکوائری کا حوالہ دیا گیا جس پر انھوں نے ہنستے ہوئے کہا: 'بیٹا اس پر بات کرنے کے لیے میں ہر وقت حاضر ہوں۔'