آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’سڑک پر بھی خوف، قلم اُٹھاتے ہوئے بھی خوف‘
- مصنف, ساره حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان میں ایک ایسے وقت میں جب نجی ٹی وی چینل اور اخبارات کو مختلف نوعیت کی سینسرشپ کا سامنا ہے وہیں پیر کو فوج کے ترجمان نے سوشل میڈیا کے بعض اکاؤنٹس پر ریاست مخالف پراپیگنڈے پر مبنی ٹویٹس کا الزام بھی لگایا ہے۔
اس کے بعد سے سوشل میڈیا اور ابلاغ میں آزادی اظہار رائے کے بارے میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
جہاں ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ فوج کے ترجمان کی جانب سے ’ریاست مخالف پراپیگنڈے‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرنے سے جہاں صحافیوں کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں وہیں اس بارے میں بات ہو رہی ہے کیا کچھ اداروں سے محب وطنی کا سرٹیفکیٹ لینا ضروری ہے؟
اس فہرست میں شامل بعض صحافیوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس اقدام پر انتہائی تشویش اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔
صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے اور انھیں کسی سے بھی محب وطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضروری نہیں ہے۔
’بغیر ثبوت کے الزامات ریاست مخالف جرم‘
کالم نگار عمار مسعود کا ٹوئٹر ہنڈل بھی فوج کے ترجمان کی سلائیڈ میں شامل ہے۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ ریاست مخالف ہونے کا الزام کہیں اور سے نہیں بلکہ فوج کے ترجمان کی جانب سے آ رہا ہے جو کوئی عام بات نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ اُنھیں اپنے بیانیے سے اختلاف قبول نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ غاروں کے تاریک دور میں زندہ ہیں۔‘
اسی بارے میں مزید پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صحافی مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ فوج کے ترجمان کی جانب سے صحافیوں کو ریاست مخالف عناصر قرار دیا جانا انتہائی غیر ذمہ دارنہ اقدام ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’وفاقی حکومت اور عدالتی حکم کے بغیر آپ کسی کے نام کے ساتھ یہ دھبہ نہیں لگا سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کے یہ غیر ذمہ داری ہے اور ریاست مخالف جرم ہے۔‘
انگریزی روزنامہ دی نیوز سے وابستہ صحافی فخر درانی کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بغیر ثبوت کے صحافیوں کا نام ریاست مخالف فہرست میں ڈالا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر انھیں صحافیوں پر ریاست مخالف پراپیگنڈے کا الزام عائد کرنا تھا تو کم سے کم اُن کی تصاویر تو نہ دکھاتے۔‘
’اختلاف پر مکالمہ نہیں خاموش کروانا‘
فوج کی جانب سے ٹویٹر پر کچھ اکاؤنٹس کی جانب سے ملک کے خلاف جعلی پراپیگنڈے میں ملوث ہونے کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے اخبارات اور ٹی وی چینل پر ریاستی اداروں کا کنڑول بڑھتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ ایسے میں لوگ سوشل میڈیا کو اپنی رائے کے برملا اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
صحافی مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ ’ٹی وی پر پروگرام سینسر کیے جاتے ہیں۔ اخبارات کی تقسیم نہیں ہوتی، کالم چھپتے نہیں ہیں۔ لے دے کر سوشل میڈیا رہ گیا ہے اس پر بھی ہمارے معتبر ادارے کو اعتراض ہونا انتہائی بد قسمتی کی بات ہے۔‘
کالم نگار عمار مسعود کا کہنا ہے کہ ان تمام اقدامات سے اختلاف رائے کا حق ختم ہو رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’جہاں جہاں سے نظریے کے مخالف آواز آئے گی ہم نے یہ تصور کر لیا ہے کہ اُس پر مکالمہ نہیں کرنا اُسے خاموش کروانا ہے۔ آپ اخبار اور ٹی وی چینل بند کروا دیتے ہیں، صحافیوں کو غدار کہتے ہیں لیکن ووٹ کو حرمت دینے کو تیار نہیں ہیں۔‘
عمار مسعود کے مطابق ’یہ ہمارا مشغلہ ہے کہ لوگوں کو ہم غدار، کافر اور کرپٹ کہتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ یہ خطاب ہمیشہ ور سیاست دانوں کو دیے جاتے رہے ہیں۔‘
صحافی فخر درانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلے اخبار اور ٹی وی پر پابندی عائد کی جاتی تھیں لیکن اب سوشل میڈیا پر بھی قدغن لگائی جا رہی ہے، یہ بہت خطرناک ہے۔
فخر کہتے ہیں کہ ’میں ہمیشہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے بارے میں ٹویٹ کرتا ہوں، میرا نہیں خیال کہ یہ ریاست مختلف ہے۔ اس کے علاوہ میں نے کبھی فوج اور ریاست کے مخالف ٹویٹ نہیں کی ہیں۔‘
’سڑک پر بھی خوف، قلم اُٹھاتے ہوئے بھی خوف‘
پاکستانی صحافیوں کا کہنا ہے کہ اُن پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرنے سے اُن کی سیکورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
عمار مسعود کا کہنا ہے کہ سیاست میں فوج کے کردار پر سوال اُٹھانے پر ہمیں غدار کہا جا رہا ہے۔
عمار مسعود نے کہا کہ 'ہم سڑک پر جاتے ہوئے خوف زدہ ہیں یہاں تک کہ اپنے قلم کو پکڑتے ہوئے بھی خوف زدہ ہیں۔ جب قلم کو پکڑیں گے تو کیا معلوم کہ سچ کی کس جہت کو غداری سمجھا جائے گا۔'
فخر درانی کا کہنا ہے کہ صحافی فیلڈ میں کام کرتے ہیں لوگوں سے ملتے ہیں اس طرح کے الزامات سے اُن کے لیے سکیورٹی رسک اور خدشات بڑھ گئے ہیں۔
لیکن مطیع اللہ جان اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ اب باشعور ہو گئے ہیں اور خلائی مخلوق اور اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اب وہ پہلے والے حالات نہیں کہ فوجی ترجمان نے بات کر دی اور سب مان لیں۔ الیکشن ہو رہے ہیں اور اس پر بات ہو رہی کہ ووٹ کو عزت دو۔‘
خلائی مخلوق باممقابلہ سیاسی جماعتیں
مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ اب حالات بدل رہے ہیں اور یہ انتخابات جماعتوں کے بیچ نہیں ہو رہے بلکہ اس بات پر ہو رہے ہیں کہ آیا خلائی مخلوق یا اسٹیبلشمنٹ کو جمہوری عمل میں مداخلت کرنا چاہیے یا نہیں۔
انھوں نے کہا کہ فوج کے اس بیان سے صحافیوں کی نہیں بلکہ فوج کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔
’ریاست کے ٹھیکیدار‘
عمار مسعود کا کہنا ہے کہ صحافیوں پر الزام ہے کہ وہ فوج کے خلاف ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم فوج کے نہیں چند جرنیلوں کے خلاف ہیں جو فوج کو سیاست میں شامل کرتے ہیں۔ یہ وہی ہیں جن کی وجہ سے جمہوری ادارے پنپ نہیں سکے۔‘
مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ ماحول یہ ہو گیا ہے کہ جرم کو آئینی جواز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے یہ وفاق اور ریاست کی عملدراری کی خلاف ورزی ہے لیکن اس پر نوٹس نہیں لیے جا رہا بلکہ اس کا جواز پیش کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کچھ ادارے ریاست کے ٹھیکدار بن گئے ہیں لیکن ریاست آئین کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ان لوگوں نے جان بوجھ کر ایک ایسا حوا کھڑا کیا ہے جو آئین سے بھی ماورا ہے۔ یہ غلط ہے۔ اگر کوئی ریاست مخالف ہے تو وہ جو شخص آئین کو نہیں مانتا جو آئین کے اداروں کو خلاف سازش کرتا ہے۔‘
مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ ریاست آئین کے بغیر کچھ نہیں ہوتی ہے ’لیکن بدقسمتی سے ماحول یہ ہو چکا ہے کہ جو ریاست مخالف کام کرنے والے ہیں آج وہ وفاداری کے سرٹفیکیٹ بانٹ رہے ہیں۔‘