آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
احتجاج کے باوجود خیبر پختونخوا اسمبلی میں فاٹا انضمام کا بل دو تہائی اکثریت سے منظور
خیبر پختونخوا اسمبلی نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق وفاقی بل کی توثیق کردی ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کا خصوصی اجلاس سنیچر کو سپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر ہی فاٹا اصلاحاتی بل ایوان میں پیش کیا گیا جسے اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا۔
یہ بل دو تہائی اکثریت سے منظور ہوا جس میں 92 اراکینِ اسمبلی نے اس کے حق میں جبکہ سات نے اس کے خلاف ووٹ ڈالا۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون امتیاز شاہ نے بل پیش کیا۔ جمیعت علماء اسلام فضل (جے یو آئی ۔ایف) کے اراکین نے اس کے خلاف نعرے لگائے اور احتجاج کیا۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ یہ خیبر پختونخوا اسمبلی کا اختتامی اور غیر معمولی اجلاس تھا کیونکہ اس اجلاس کے ساتھ کے پی کے پی اسمبلی نے اپنی پانچ سالہ آئینی مدت بھی پوری کر لی ہے۔
اس بارے میں مزید جانیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے خلاف پشاور میں مذہبی جماعت کے کارکنوں اور قبائلی رہنماؤں نے احتجاجی دھرنا دیا اور مظاہرین نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا گھیراؤ بھی جاری رکھا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ نے وفاق کے زیر انتظام قبائیلی علاقوں کو خیبر پختونخوا اور صوبوں کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو اپنے اپنے صوبوں میں ضم کرنے کے لیے آئینی ترمیم کی تھی۔
حکومتی جماعت مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی، پاکستان تحریکِ انصاف سمیت مختلف اپوزیشن کی جماعتوں نے اس آئینی ترمیم کی حمایت کی تھی لیکن جمعیت علمائے اسلام اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے اس انضمام کی مخالفت کی تھی۔
نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق جے یو آئی کے سینکڑوں کارکن اتوار کی صبح خیبر پختونخوا اسمبلی کی عمارت کے سامنے جمع ہوگئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کے کارکنوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے سے گزرنے والی اہم شاہراہ خیبر روڈ پر ٹائر جلاکر اسے ہر قسم کے ٹریفک کےلیے بند کر دیا ہے۔
احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھاپائی اور تلخ کلامی کے متعدد واقعات پیش آئے جبکہ اس دوران کارکنوں کی طرف سے صوبائی اسمبلی کی مرکزی گیٹ تک پہنچنے کی کوشش کی گئی تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر کے ان کی یہ کوشش ناکام بنادی۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے کچھ گولے بھی پھینکے۔
احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھاپائی اور تلخ کلامی کے متعدد واقعات پیش آئے جبکہ اس دوران کارکنوں کی طرف سے صوبائی اسمبلی کی مرکزی گیٹ تک پہنچنے کی کوشش کی گئی تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر کے ان کی یہ کوشش ناکام بنادی۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے کچھ گولے بھی پھینکے۔
احتجاج کے دوران موجود مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ خیبر روڈ تقریباً دو گھنٹوں تک میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا اور اس دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی۔ آخری خبریں آنے تک مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر پتھراؤ بھی کیا۔
یاد رہے کہ جمعیت علما اسلام ف ابتدا ہی سے فاٹا انضممام کی مخالفت کرتی رہی ہے۔