آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوشلستان :’ٹی وی چینل پر نسل پرستی‘
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
سوشلستان میں سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے بعد ہر سیاسی جماعت جس نے نیشنل پارٹی کے صدر حاصل خان بزنجو کے مطابق 'منہ کالا کیا ہے' اب سوشل میڈیا پر ان کے جنگجو توجیحات پیش کر رہے ہیں۔
مدعا یہ ہے کہ ثابت کیا جائے کہ بڑا سیاستدان کون ہے آصف علی زرداری یا عمران خان یا پھر 'جس کی پشت پر ہاتھ ہے' وہ والا مڈل مین؟
آصف علی زرداری نے پی ٹی آئی کو چاروں شانے چت کیا یا عمران خان صاحب نے سیاسی تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ مگر یہ سب ایسا ہی ہے جیسے سانپ کے گزرنے کے بعد لکیر کا پیٹنا۔ تو ہم بات کریں گے پاکستانی ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں نسل پرستی کا۔
ٹی وی چینل پر نسل پرستی
پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں خواتین کے میک اپ کا مقابلہ منعقد کیا گیا جس میں معروف اداکاراؤں کو منصف بنایا گیا جن کے ساتھ بیوٹیشنز نے خواتین کو دلہن کے طور پر تیار کر کے دکھانا تھا۔
یہاں تک تو بات ٹھیک ہے مگر پھر ان بیوٹیشنز کو کہا گیا کہ وہ گہری رنگت یا سانولی رنگت یا جسے پروگرام میں 'حبشن' کہا گیا کو دلہن کے طور پر تیار کرنا تھا۔
بات یہاں تک بھی شاید نہ بگڑتی مگر اس مقصد کے لیے صاف رنگت والی ماڈلز کو گہری رنگت کا میک اپ لگا کر تیار کیا گیا اور اس سارے عمل کے دوران جو زبان اور اصطلاحات استعمال کی گئیں اس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
نادیہ قریشی نے اپنی حیرت کا اظہار کچھ یوں کیا کہ 'او میرے خدایا امبر (اداکارہ جو منصفی کے فرائض ادا کر رہی تھیں) جاگو پاکستان جاگو میں 'ن' کا لفظ استعمال کر رہی ہیں اور پھر اس کا ترجمہ حبشی کر کے بتا رہی ہیں۔ یہ تو میری توقع سے بھی زیادہ برا ہے۔'
سیدہ زینب نے لکھا 'جب آپ سوچتے ہیں کہ یہ لوگ مزید نہیں گر سکتے یہ آپ کو غلط ثابت کرتے ہیں۔ مارننگ شو کو کیا کوئی گہری رنگت کی خاتون نہیں ملی اس پورے ملک میں کہ انہیں ایک صاف رنگت والی لڑکی کو ماڈل بنا کر 'حبشن' کے لیے میک اپ کی ترکیبیں دکھائیں؟'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میمونہ خواجہ نے تبصرہ کیا کہ 'میں بہت حیران ہوں کیا گہری رنگت والی ماڈلز ڈھونڈنا اتنا مشکل کام تھا۔'
آمنہ نے لکھا کہ 'میں نے یہ شو دیکھا اور یہ جہالت سے آگے کی چیز لگی۔ میزبان اور منصف بہت ہی تحقیر آمیز تھے اور بدتمیز تھے۔ میں بہت ہی حیران ہیں۔'
پاکستانی پاپ کلچر نام کے ٹوئٹر ہینڈل نے تبصرہ کیا کہ 'نہ صرف سیاہ چہرے اور نسل پرستی پر مبنی مواد کو اس پروگرام میں نارمل طور پر دکھایا گیا بلکہ میک اپ آرٹس نے انہیں 'حبشن' اور 'ن` کہا۔ ہمیں یقیناً گہری رنگت کی خواتین کو پاکستانی میڈیا پر زیادہ نمائندگی دینی چاہیے۔ مگر یہ بالکل مناسب نہیں ہے۔'
اشک نام کے ٹوئٹر ہینڈ نے لکھا 'میں نے شو دیکھا اور شدید کراہت محسوس ہوئی۔ آج کے دور میں ماڈلز کے چہروں کو سیاہ کرنا صرف میک اپ اور دکھاوے کے لیے۔ ایک چینل کے پروگرام میں کھلی نسل پرستی۔'
ہمنہ زبیر نے لکھا کہ 'پاکستانی پروڈیوسرز سیاہ چہرہ بالکل مناسب نہیں۔ اور یہ کہنا بھی بالکل ٹھیک نہیں کہ گہری رنگت کے چہروں پر میک اپ کرنا بہت زیادہ مشکل ہے۔'
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستانی چینلز پر نسل پرستی پر مبنی باتیں کہیں گئی ہوں اکثر ٹی وی چینلز پر پیش کیے جانے والے شو کامیڈی یا مزاحیہ شوز میں لازمی ایک کردار ایسا رکھا جاتا ہے جو یا تو وزنی ہوتا ہے یا اس کی رنگت سیاہ ہوتی ہے اور اس کی بنیاد پر اس کی مزاق اڑایا جاتا ہے۔
سٹیج ڈراموں میں تو یہ بہت ہی شدید رنگ میں سامنے آتا ہے جس میں ایسے افراد کو مختلف تشبیہات دی جاتی ہیں۔
اس ہفتے کی تصاویر