آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’اسلامائزیشن‘ سے چین متفکر
چین میں اسلام سے متعلق ایک اعلی سرکاری اہلکار نے چینی مسلمانوں کو مسجدوں کی طرز تعمیر سمیت ملک میں سرایت کرتی ہوئی 'اسلامائزیش' یا اسلام پسندی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عقائد پر چینی روایات اور ثقافت کے مطابق عمل کریں۔
چین میں دو کروڑ کے قریب مسلمان ہیں جن کی اکثریت ملک کے مغربی حصوں، سنکیانگ اور اوغر میں آباد ہیں اور ان کی زبان بھی مختلف ہے۔
یہ بھی پڑھیے
برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین سرکاری طور پر مذہبی آزادی کی گارنٹی دیتا ہے لیکن حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی مذبہیت اور تشدد کے خدشات سے پریشان ہو کر مسلمان اکثریت والے علاقوں میں سختیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
چین کی پارلیمان کے ایک مشاورتی ادارے سے خطاب کرتے ہوئے چین کی اسلامک ایسوسی ایشن کے سربراہ یانگ فامنگ نے کہا کہ چین میں اسلام کی طویل اور درخشان تاریخ ہے۔ یانگ فامنگ کی تقریر کی تحریری کاپی جو چین کی سرکاری نیوز ایجنسی نے جاری کی اس کے مطابق انھوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں اسلام کے حوالے سے جو مسائل سامنے آ رہے ہیں ان سے صرف نظر کیا جانا ممکن نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان مسائل کی نشاندھی کرتے ہوئے انھوں نے ملک میں تعمیر کی جانے والی مساجد کی مثال دی جن کی تعمیر میں ان کے مطابق آنکھیں بند کر کے غیر ملکی کو طرز تعمیر کو اپنایا جا رہا ہے اور یہ چین کے روایتی طرز تعمیر سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ بہت سے علاقوں میں حلال اور حرام کا تصور عام ہو رہا ہے اور سیکولر عقائد اور طرز زندگی میں مذہب کا عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے۔
یانگ نے کہا کہ کچھ لوگ ملک کے قوانین سے زیادہ مذہبی قواعد کو اہمیت دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہوئے بھی کہ کسی مذہب کے پیروکار ہونے اور شہری ہونے میں کیا فرق ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'ہمیں یقنی طور پر انتہائی چوکس رہنا چاہیے۔'
انھوں نے کہا کہ چین میں اسلام کو بنیادی سوشلسٹ اقدار سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے اور 'ریڈکالائزیشن' کی مخالفت کرنی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ مذبہبی رسومات، ثقافت اور مذبہی عمارات اور عبادت گاہوں کا طرز تعمیر اپنی ہیت اور انداز میں چینی ہونا چاہیے۔
چین ملک میں ہونے والے حالیہ تشدد کے واقعات کی ذمہ داری اسلامی شدت پسندوں پر ڈالتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ چین کی طرف سے اوغر کے علاقے میں آباد مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے مذہبی اور ثقافتی جبر کا رد عمل ہے۔ چین اس علاقے میں لوگوں پر جبر کرنے کے الزام کو رد کرتا ہے۔
دنیا بھر میں آباد مسلمانوں میں چین کی ساکھ چینی صدر ژئی جی پنگ کے 'بیلٹ اور روڈ' منصوبے کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ منصوبہ بہت سے مسلمانوں ملکوں سے گزرتا ہے۔