ترکی میں بم حملہ، حملہ آووروں سمیت چار ہلاک

ترکی سے آنے والی اطلاعات کے مطابق مغربی شہر ازمیر میں ایک مقامی عدالت کے باہر دھماکے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس آفیسر اور ایک عدالتی اہلکار شامل ہے۔ جبکہ سکیورٹی فورسز نے دو مشتبہ حملہ آووروں کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔

ازمیر کے گورنر کے مطابق عدالت کے باہر دو مشتبہ حملہ آور پولیس کے ساتھ مقابلے میں ہلاک ہو گئے جبکہ تیسرا حملہ بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔

گورنر کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے یہ پتہ چلا ہے کہ یہ کرد گروہ پی کے کے کا کام ہے۔

اس سے قبل ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حکومت نے استنبول کے نائٹ کلب حملے میں 39 افراد کی ہلاکت کے بعد اوغر نسل کے متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔

اناتولو کا کہنا ہے کہ جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے وہ چین کے علاقے سنکیانگ سے آئے ہیں اور ان کے حملہ آور کے ساتھ روابط ہیں۔

ترکی کے نائب وزیر اعظم نے کہا ہے کہ استنبول کے نائٹ کلب پر حملے کا مشتبہ شخص بھی شاید اوغر ہی ہے۔

دوسری جانب پولیس استنبول کے نائٹ کلب پر حملہ کرنے کے شبہے میں پہلے ہی درجنوں افراد کو گرفتار کر چکی ہے تاہم اس کا مرکزی ملزم تا حال مفرور ہے۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق حکام نے مبینہ طور پر ملک سے بھاگنے والے حملہ آور کو روکنے کے لیے ترکی کی سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔

ترکی کے میڈیا نے مشتبہ شخص کی تصاویر جاری کی ہیں تاہم پولیس نے سرکاری تفصیل نہیں بتائی ہے۔

اوغر مسلمان ہیں۔ گو ان کی زبان ترکی سے مماثلت رکھتی ہے لیکن لسانی اور ثقافتی اعتبار سے وہ خود کو وسط ایشیائی ریاستوں کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں۔

سالِ نو کے موقع پر نائٹ کلب پر ہونے والے حملے میں غیر ملکیوں سمیت 39 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اس حملے میں ملوث ہونے کا دعوی کیا تھا۔

ترکی کے رینا نائٹ کلب میں سالِ نو کے موقعے پر کم از کم 600 افراد موجود تھے کہ اچانک ایک مسلح شخص نے اندر داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی۔