آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ میں پاکستان کے نامزد سفیر علی صدیقی کیا ٹرمپ تک رسائی میں مدد کر سکتے ہیں؟
- مصنف, حسن بلال زیدی
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
کیا ایک ایسا شخص جو سفارتکاری کے معاملے میں ناتجربہ کار ہو پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی سے بچا سکتا ہے؟
یہ سوال ہر اس پاکستانی کے ذہن میں ہے جس نے علی جہانگیر صدیقی کی بطور امریکی سفیر تعیناتی کے حوالے سے خبر سنی ہے۔
اگرچہ دفتر خارجہ نے اس تعیناتی کے حوالے سے نہ تو نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے اور نہ ہی کوئی تبصرہ، مگر وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ان کی نامزدگی کی منظوری دے دی ہے اور امریکی حکام کو ان کی تعیناتی کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔
علی صدیقی کون؟
علی صدیقی کی بنیادی وجہ شہرت ان کے والد جہانگیر صدیقی کا کاروبار ہی رہا ہے۔ وہ اپنے والد کے نام پر قائم پاکستانی بینک ’جے ایس‘ کے چیئرمین ہونے کے علاوہ نجی فضائی کمپنی ایئر بلیو کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ ایئر بلیو وہی کمپنی ہے جس کے بانی پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم خود تھے۔
وزیراعظم عباسی نے حلف برداری کے کچھ ہی عرصے بعد علی صدیقی کو اپنی کابینہ میں بطور خصوصی مشیر شامل کیا تھا۔
پاناما پیپرز میں بھی علی صدیقی کا نام آیا تھا جہاں برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ان کی ایک آف شور کمپنی نووولینس لمیٹڈ بھی سامنے آئی تھی۔
امریکہ کی آئی وی لیگ یونیورسٹی کورنیل سے معاشیات کی تعلیم حاصل کرنے والے علی صدیقی کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو پاکستان کے کاروباری اور اعلیٰ سیاسی اور میڈیا حلقوں میں پہنچ رکھتا ہے۔
ان کے والد ملک کے بازارِ حصص کے بڑے کھلاڑی مانے جاتے ہیں اور علی کی عملی تربیت انھی کے زیرسایہ ُان کے اپنے قائم کردہ اداروں میں ہی ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
البتہ اقتصادی امور پر نظر رکھنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ کاروباری حلقوں میں باقاعدگی سے گھلتے ملتے نہیں ہیں اور نہ ہی ان بزنس فورمز میں نظر آتے ہیں جو آئے دن کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں منعقد ہوتے ہیں۔
امریکہ میں پاکستانی سفیر
پاکستان میں امریکی سفیر کی پوسٹ ایک 'پرائزڈ پوسٹنگ' قرار دی جاتی ہے اور اس پر سفارتی تجربہ نہ رکھنے والے ایک نوجوان کی تعیناتی پر خارجہ امور کے ماہرین کی جانب سے تنقید بھی کی گئی ہے۔
تجزیہ کار امتیاز گل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چہرہ جو بھی ہو جب تک اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان بنیادی اختلافات دور نہیں ہوتے تب تک دونوں فریقوں کے تعلقات میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آ سکتی۔
’پہلے بھی پاکستانی سفیر آئے ہیں جیسے عابدہ حسین، شیری رحمان اور ملیحہ لودھی جو کہ کریئر سفارتکار نہیں تھیں لیکن جب تک ہم پر سے القاعدہ، طالبان اور ڈو مور یعنی مزید کرنے کی چھاپ نہیں ہٹتی تب تک کسی ایک شخص کے لیے چیزیں بدلنا بہت مشکل ہو گا۔‘
اس تنقید کے برعکس ان کے حامی اس تعیناتی سے کئی توقعات لگائے بیٹھے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں دفترِ خارجہ کے مشیر رہنے والے مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کا ایک نڈر چناؤ ہے۔
ان کے مطابق 'نہ تو پاکستانی فارن سروس اور نہ ہی خارجہ پالیسی کے ماہر اس تعیناتی سے خوش ہوں گے اور یہی کہیں گے کہ ان کے پاس تجربہ نہیں لیکن جن کے پاس تجربہ تھا انھوں نے کیا کر لیا؟'
دوسری جانب علی صدیقی کے قریبی دوست نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کو نہیں معلوم کہ وہ ٹرمپ خاندان کو کتنا جانتے ہیں۔ ’لیکن ایسے لوگوں کے ضرور قریب ہیں جو ٹرمپ تک رسائی دلوانے میں مدد کر سکتے ہیں۔‘
اب دیکھنا یہ ہے کہ علی صدیقی جنہوں نے امریکہ کی آئی یوی لیگ یونیورسٹی سے معاشیات کی تعلیم حاصل کی تھی، کیا امریکہ کی نئی انتظامیہ کی بولی بولنے میں کامیاب ہوں گے۔