نہال ہاشمی کو توہین عدالت کا ایک اور نوٹس جاری

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سپریم کورٹ نے مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر نہال ہاشمی کو توہین عدالت کرنے پر انھیں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ اس سے پہلے نہال ہاشمی کو توہین عدالت کے مقدمے میں ایک ماہ کی سزا بھی سنا چکی ہے۔

سابق سینیٹر نے سزا کاٹنے کے بعد جیل سے نکلتے ہی دوبارہ اعلی عدلیہ کے ججوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز ایک ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔ وہ خبروں کی زینت بننے کے لیے سیاسی مقدمات کو سن رہے ہیں جبکہ جیلوں میں پڑے ایسے قیدی بھی ہیں جن کے 15 سالوں سے مقدمات کی سماعت ہی نہیں ہوئی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نہال ہاشمی کو بدھ کو عدالت میں طلب کیا اور جب بینچ کے سربراہ نے ان سے استفسار کیا کہ انھوں نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے بارے میں کیوں باتیں کیں تو نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ رہائی کے وقت وہ ذہنی اذیت کا شکار تھے اس لیے ان کے منہ سے ایسی باتیں نکل گئیں۔

نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ وہ دکھ میں ہائپر ہو جاتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ کیا ہمارے سامنے پیش ہو کر بھی آپ کی حالت ایسے ہی ہے جبکہ وہ تقاریر تو بہت اچھی کر لیتے ہیں۔

نہال ہاشمی نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب پرویز مشرف کے دور میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظر بند کیا گیا تھا تو وہ ان کی حمایت میں نکلے تھے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے حمایتوں کی ضرورت نہیں ہے جو بعد میں ججوں کو برا بھلا کہیں۔

نہال ہاشمی نے کہا کہ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جبکہ وکالت کے علاوہ ان کا کوئی ذریعہ معاش بھی نہیں ہے اور اگر انھیں معاف نہ کیا گیا تو وہ مر جائیں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جن کے لیے وہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو گالیاں دیتے تھے وہ کوئی اور انتظام کر دیں گے۔

نہال ہاشمی کے وکیل کامران مرتضی نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے موکل نے عدلیہ کےبارے میں جو الفاظ کہے ہیں انھیں ریکارڈ کا حصہ نہ بنایا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ نہال ہاشمی کے وکیل کے طور پر عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے لہذا وہ اپنا وکالت نامہ واپس لیتے ہیں جس پر عدالت نے اُنھیں اپنا وکالت نامہ واپس لینے کی اجازت دے دی۔

واضح رہے کہ توہین عدالت کے مقدمے میں زیادہ سے زیادہ سزا چھ ماہ قید اور جرمانہ ہے۔ البتہ سپریم کورٹ ماضی میں توہین عدالت کے ملزموں کو اس وقت تک جیل میں رہنے کا حکم جاری کر چکی ہے جب تک وہ اپنی اصلاح نہیں کر لیتے۔