اسما کیس:’ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا‘، مردان میں چھاپے

،تصویر کا ذریعہTwitter
حکومتِ پنجاب کا کہنا ہے کہ مردان کی چار سالہ بچی اسما سے جنسی زیادتی کے مجرم کی تلاش کے سلسلے میں خیبر پختونخوا کی پولیس کی جانب سے جو ڈی این اے کے نمونے فراہم کیے گئے تھے ان میں سے ایک بچی کے جسم سے ملنے والے ڈی این اے سے مل گیا ہے۔
ٹوئٹر پر حکومتِ پنجاب کے آفیشل اکاؤنٹ سے کی گئی ٹویٹس کے مطابق ’اسما ریپ کیس کے ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے۔‘
مزید پڑھیے
ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ شخص کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا اور اس سلسلے میں پنجاب حکومت خیبر پختونخوا حکومت سے رابطہ کر رہی ہے۔
ایک اور ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب فورینزک سائنس ایجنسی نے اس معاملے میں 140 سے زیادہ ڈی این اے ٹیسٹ کیے اور یہ کہ بچوں کا استحصال کرنے والوں کو قانون کے تحت مثالی سزا دی جانی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر پی ایف ایس اے کے ذرائع نے لاہور میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار عمر دراز کو بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جو 145 نمونے فراہم کیے گئے تھے ان میں دو ایسے نمونے ہیں جو اسما کے جسم سے ملنے والے مواد سے مطابقت رکھتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دونوں نمونے ایسے افراد کے ہیں جن کی عمر 30 برس سے کم ہے۔
بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پولیس نے اسما کے دو قریبی رشتہ داروں کو گرفتار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
خیبر پختونخوا کے آئی جی کے دفتر کی جانب سے بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ حکومتِ پنجاب کی رپورٹ خیبرپختونخوا حکام کو مل گئی ہے۔
آئی جی کے ترجمان نے بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ ملنے کے بعد مردان میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے بھی مارے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسما کیس کے اُن ملزمان اور مشتبہ افراد جن کے ڈی این اے نمونے پنجاب بھیجے گئے تھے، ان کی کڑی نگرانی کی جا رہی تھی۔
مردان کے علاقے گجر گڑھی کی چار سالہ اسما کو جنوری کے دوسرے ہفتے میں اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی لاش قریبی کھیتوں سے ملی تھی۔
پوسٹ مارٹم میں اسما سے جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی تھی اور خیبر پختونخوا کے حکام نے اس معاملے میں لاہور میں واقع پنجاب فورینزک لیبارٹری سے مدد لی تھی۔
خیال رہے کہ منگل کو ہی پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس معاملے کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران پنجاب فورینزک لیب کو جلد رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اس معاملے میں خیبرپختونخوا پولیس کو رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید دو ہفتے کی مہلت دیتے ہوئےسماعت 21 فروری تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔









