آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
متاثرہ بچیوں کے لواحقین کی ملزم عمران علی سے ملاقات
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں سات سالہ زینب کے قتل کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے حکام نے قصور کی متاثرہ بچیوں کے لواحقین کی ملزم عمران علی سے ملاقات کرائی ہے۔
ماہرین کے مطابق قانونی اعتبار سے کسی مقدمے میں شناخت پریڈ یعنی ملزم کی گواہوں یا مدعی سے شناخت کے عمل کے علاوہ مدعی کو ملزم سے سوال و جواب کی اجازت نہیں ہوتی لیکن اس کیس میں یہ غیر معمولی اقدام دیکھنے کو ملا جو غیر رسمی طور پر ہوا۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ اتوار کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جانے کے بعد بچیوں کے لواحقین کی لاہور میں ہی ملزم سے ملاقات کروائی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
اہلخانہ نے بتایا کہ ملاقات کی اجازت کس نے دی یہ تو معلوم نہیں لیکن انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ ملاقات ملزم کی شناخت کے لیے نہیں بلکہ ہماری تسلی کے لیے تھی کہ ’اگر ہم کچھ بھی پوچھنا چاہیں تو پوچھ لیں‘۔
ان ملاقاتوں کا دورانیہ پانچ منٹ سے نصف گھنٹے تک بتایا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملاقات کرنے والوں میں شامل ایک شخص نے بتایا کہ 'ہم ڈھائی بجے کے قریب وہاں گئے اور سات بجے کے بعد ملاقات ہوئی۔ اور ملاقات میں اس سے بچی کے کپڑوں کا رنگ پوچھا لیکن وہ نہیں بتا سکا۔ جگہ کے بارے میں بھی ٹھیک طرح نہیں بتا سکا۔'
لیکن یہ ملزم بچوں کو کیسے گنجان آباد علاقوں سے اغوا کرتا تھا؟
اس کے جواب میں ایک ملاقاتی نے بتاتا کہ ’ملزم کسی بھی علاقے میں کوئی مکان تین سے چار دن پہلے منتخب کرنے کے بعد وہاں اردگرد کی آبادی میں موجود کسی بھی بچے کو شام کے وقت اغوا کر لیتا تھا‘۔
ملاقات کرنے والے شخص کے بقول ملزم نے بتایا کہ'جو بچی مجھے اکیلی نظر آتی تھی میں اسے کہتا تھا کہ ہم پیسے،چاول اور چیز بانٹ رہے ہیں تم نے لینی ہے؟ تو جو بچہ اس کے ساتھ چل پڑتا اور وہ اسے لے جاتا تھا۔'
قتل کی جانے والی بچیوں میں سے ایک کے عزیز نے کہا کہ وہ فی الحال اس ملاقات کا مکمل احوال نہیں بتا سکتے۔
ایک اور ملاقاتی نے بتایا کہ ملزم سے اپنے سوالوں کے جواب پر یہ تسلی ہے کہ ’ملزم‘ یہی ہے۔
ایک اور بچی کے عزیز نے بتایا کہ: 'دل میں جتنے بھی سوال تھے اس سے پوچھے۔ اس نے کچھ باتیں بتائی ہیں۔ کچھ باتیں اس نے ٹھیک اور کچھ غلط بتائی ہیں۔ ابھی ہم مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں۔ ابھی جب چالان پیش ہو گا تو پھر ہم بات کریں گے۔'
ان آٹھ متاثرہ بچیوں میں سے ایک زندہ بچ جانے والی بچی اس واقعے کو بھول چکی ہے جبکہ دوسری بچی کی یادداشت میں آج بھی وہ واقعہ محفوظ ہے اور تیسری بچی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ والدین اور اہلخانہ پر امید ہیں کہ قاتل کو جلد اور قرار واقعی سزا ملے گی۔