آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
زینب کیس: ملزم عمران علی 14 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے قصور کی سات سالہ بچی زینب سے جنسی زیادتی اور قتل کے ملزم عمران علی کو 14 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔
پولیس نے عمران علی کو 22 جنوری کو قصور سے گرفتار کیا تھا اور منگل کو صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے لاہور میں ایک نیوز کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ ان کا ڈی این اے زینب کے جسم سے ملنے والے ڈی این اے سے مکمل مطابقت رکھتا ہے اور وہی اس کے قاتل ہیں۔
بدھ کے روز 24 سالہ عمران کو سخت حفاظتی انتظامات میں لاہور میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے لیے لایا گیا۔
اسی بارے میں مزید پڑھیں!
انھیں خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد کے روبرو پیش کیا گیا اور پولیس نے ملزم کی تفتیش سے متعلق رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی۔
مختصر سماعت کے بعد جج نے ملزم کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے مطابق ملزم نہ صرف سیریل کِلر یعنی قاتل ہے بلکہ ایک سیریل پیڈوفائل بھی ہے جو نفسیاتی حد تک بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم عمران علی کے ڈی این اے کے نمونے پنجاب فارنزک لیبارٹری میں بھیجے گئے تھے تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ وہ مرکزی ملزم ہے۔
پولیس کے مطابق اس کے ڈی این اے کا نمونہ زینب کے جسم سے حاصل کیے گئے قاتل کے ڈی این اے کے نمونوں سے مطابقت رکھتے تھے جس سے یہ ثابت ہوا کہ وہی زینب سمیت ان آٹھ بچیوں پر جنسی حملوں اور قتل کی وارداتوں کا مرکزی ملزم ہے۔
خیال رہے کہ زینب انصاری کو رواں ماہ کے آغاز میں کوٹ روڈ پر واقع ان کی رہائش گاہ کے قریب سے اغوا کر لیا گیا تھا اور ان کی لاش چند دن بعد ایک کوڑے کے ڈھیر سے ملی تھی۔
زینب کی لاش ملنے کے بعد قصور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔
بچیوں کے اغوا اور ان سے جنسی زیادتی کے بعد قتل کی یہ وارداتیں زینب انصاری کی رہائش گاہ کے تقریباً تین مربع کلومیٹر کے علاقے میں ہوئی تھیں۔
پولیس کے مطابق قصور میں سنہ 2015 سے لے کر اب تک چھوٹی بچیوں کو اغوا کے بعد زیادتی کر کے قتل کرنے کی 12 وارداتیں ہو چکی ہیں۔
ان میں سے تین وارداتوں میں ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ آٹھ وارداتیں ایسی تھیں جن میں مجرم عدم گرفتار تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم عمران نے دورانِ تفتیش بتایا کہ وہ پکڑے جانے کے ڈر سے بچوں کا گلا گھونٹ کر انہیں موت کے گھاٹ اتارتا تھا۔