کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کی ضمانت، رہائی دو دن میں متوقع

پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کی ضمانت منظور کیے جانے کے بعد ان کے بیٹے کے بقول ایک دو دن میں انھیں رہا کر دیا جائے گا۔

پیر کو پشاور ہائی کورٹ نے درخواست گزار کے وکیل کی اس استدعا پر درخواستِ ضمانت منظور کی کہ صوفی محمد طویل عرصے سے جیل میں ہیں،وہ بیمار ہیں اور ان کی عمر کا تقاضا ہے کہ انھیں ضمانت دی جائے۔

خیال رہے کہ صوفی محمد کی عمر 92 برس ہے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

ٹی این ایس ایم کے سربراہ اور تحریکِ طالبان پاکستان کے موجودہ سربراہ ملا فضل اللہ کے سسر صوفی محمد کو 26 جولائی 2009 کو پشاور سے ان کے دو بیٹوں ضیا اللہ اور رضوان اللہ سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔

ان کے خلاف حکومت کے خلاف تقریریں کرے سمیت دیگر مقدمات درج کیے گئے تھے۔

مولانا صوفی محمد کے صاحبزادے فضل اللہ نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو نے بتایا کہ ان کے والد کی تمام 17 مقدمات میں ضمانت ہوگئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بیشتر مقدمات میں ان کی پہلے ضمانت منظور ہوگئی تھی تاہم ایک مقدمے جس میں صوفی محمد نے مبینہ طور پر پاکستان کا آئین ماننے سے انکار کیا تھی اس کی سماعت جاری تھی۔

پیر کو جسٹس وقار احمد سیٹھ نے اس مقدمے میں بھی مولانا صوفی محمد کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔

صوفی محمد کے صاحبزادے نے مزید کہا کہ ایک میڈیکل بورڈ نے بھی ان کے والد کا معائنہ کیا تھا جس نے سفارش کی تھی کہ ان کی صحت اس کی اجازت نہیں دیتی کہ انہیں مزید جیل میں رکھا جائے۔

فضل اللہ نے اس بات کی وضاحت کی ان کے والد سے منسوب اس بات میں کوئی حقیت نہیں کہ وہ آئین پاکستان اور اعلی عدالتوں کو نہیں مانتے۔

یاد رہے کہ ماضی میں صوفی محمد کے کالعدم تنظیموں سے روابط کی وجہ سے ان کے خلاف دائر تمام مقدموں کی سماعت سنٹرل جیل پشاور کے اندر قائم خصوصی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوتی رہی ہے۔