آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
'پاکستانی زائرین حضرت نظام الدین کے عرس میں شرکت نہیں کر سکیں گے'
پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے ویزا جاری نہ کیے جانے کے سبب پاکستانی زائرین خواجہ نظام الدین اولیا کے عرس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
پاکستان نے انڈیا کے آخری موقعے پر ویزا نہ دینے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک انڈیا اور پاکستان کے درمیان مذہبی درگاہوں کی زیارت کے سلسلے میں سنہ 1974 کے پروٹوکول کی خلاف ورزی ہے۔
خیال رہے کہ عہد وسطی کے صوفی بزرگ حضرت نظام الدین اولیا کا عرس رواں سال یکم تا آٹھ جنوری منعقد ہو رہا ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان مبینہ پاکستان میں قید انڈین جاسوس کلبھوشن کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ کی ملاقات کے بعد تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔
دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے 'انڈیا کے فیصلے کے نتیجے میں 192 پاکستانی زائرین عرس میں شرکت سے محروم ہو جائیں گے جو کہ ان کے لیے انتہائي اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔'
بیان میں کہا گیا ہے کہ 'یہ نہ صرف باہمی پروٹوکول اور مذہبی آزادی کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس طرح کے اقدام سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو معمول پر لانے اور عوام کے درمیان رابطے کے فروغ کی بھی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔'
اس میں کہا گیا ہے کہ 'یہ ستم ظریفی ہے کہ ایسا حضرت نظام الدین اولیا کے عرس کے موقعے پر کیا گیا ہے جو کہ مختلف برادریوں قربت پیدا کرنے کے علمبردار رہے ہیں۔'
اس میں مزید کہا گيا ہے کہ پاکستان نے سکھ زائرین کے لیے سپیشل ٹرین چلانے کی انڈیا سے پیشکش کی تھی لیکن انڈیا کی جانب سے تاخیر کی وجہ سے سکھ زائرین گرو ارجن دیو کے 'یوم شہادت' کے موقعے اور مہاراجا رنجیت سنگھ کی برسی پر پاکستان نہ آ سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درگاہ حضرت نظام الدین کے ایک سجادہ نشین سید ساجد نظامی نے دہلی میں ہمارے نمائندے مرزا اے بی بیگ سے بات کرتے ہوئے اس خبر پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ 'ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ حضرت نظام الدین کا پیغام تو محبت تھا۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'یہ ہماری روایت رہی ہے کہ دونوں طرف کے لوگ عرس کے موقعے سے ایک دوسرے ملک زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ اس سے قبل اجمیر میں حضرت معین الدین چشتی کے عرس میں بھی لوگ شریک ہوئے تھے۔'
انھوں نے کہا کہ 'اس قسم کے وفد کے آنے جانے سے عوام میں رابطہ پیدا ہوتا ہے اور یہ دونوں ممالک کے حق میں ہے۔'