لندن اور جنیوا کے بعد فری بلوچستان مہم اب نیو یارک میں

    • مصنف, رضا ہمدانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو

لندن کے بعد ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن نے امریکی شہر نیو یارک کے مصروف ترین اور مشہور ترین علاقے ٹائمز سکوائر میں ’فری بلوچستان‘ کا اشتہار لگایا ہے۔

ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ ’فری بلوچستان‘ کی مہم کے لیے ٹائمز سکوائر کے وسط میں اشتہاری بورڈ پر مہم چلائی جا رہی ہے۔

تنظیم کے مطابق یہ اشتہار تین روز تک یعنی نئے سال کی آمد تک اس بل بورڈ پر رہے گا۔

ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ نیو یارک کے مصروف اور مشہور ترین علاقے ٹائمز سکوائر میں مہم چلانے کا مقصد امریکی عوام کو ’بلوچستان کی بگڑتی صورتحال سے آگاہ کرنا ہے۔‘

تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ بل بورڈ پر اشتہار لگانے کے علاوہ نیو یارک کی ایک سو ٹیکسیوں کے ذریعے بھی اسی قسم کی مہم چلائی جا رہی ہے۔

کلیئر چینل سپیکٹا کلر

ٹائمز سکوائر کے جس بل بورڈ پر فری بلوچستان کا اشتہار لگایا گیا ہے وہ کلیئر چینل سپیکٹا کلر نامی کمپنی کا ہے۔

اس کمپنی نے اپنے بل بورڈ کی تشہیر کے لیے لکھا ہے:

ٹائمز سکوائر آنے والے افراد کون ہیں؟

  • امیر لوگ۔
  • پڑھے لکھے۔ ٹائمز سکوائر آنے والوں میں سے 70 فیصد افراد کالج تک کی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔
  • 66 فیصد افراد کے اپنے مکان ہیں۔
  • نیو یارک آنے والے 80 فیصد سیاح ٹائمز سکوائر آتے ہیں۔
  • ٹائمز سکوائر میں تین گھنٹے سے زیادہ اوسط وقت گزارتے ہیں۔

اعداد و شمار

  • ہر ہفتے ٹائمز سکوائر سے پانچ لاکھ گاڑیاں گزرتی ہیں۔
  • تین لاکھ نوے ہزار لوگ ٹائمز سکوائر میں واقع دفاتر میں کام کرتے ہیں۔
  • نیو یارک سٹی میں واقع ہوٹل کے کمروں میں سے 25 فیصد کمرے ٹائمز سکوائر میں ہیں۔

کلیئر چینل سپیکٹا کلر کمپنی کے جس بل بورڈ پر فری بلوچستان کی تشہیر کی جا رہی ہے وہ فاسٹ فوڈ میکڈونلڈز کے بالکل اوپر لگا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ اسی تنظیم کے تحت ستمبر میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں متعدد مقامات اور بسوں اور دیگر گاڑیوں پر ایسے پوسٹر آویزاں کیے گئے تھے جن پر بلوچستان کی آزادی اور پاکستان میں اقلیتوں سے مبینہ طور پر ناروا سلوک کے بارے میں نعرے درج تھے۔

حکومت پاکستان نے 'فری بلوچستان' کے پوسٹرز مہم پر سوئس حکومت سے احتجاج کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ اس 'شرانگیز' مہم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

اس سلسلے میں جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں پاکستان کے مستقل مندوب فرخ عامل نے چھ ستمبر کو اپنے سوئس ہم منصب کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں اس اشتہاری مہم کو پاکستان کی سالمیت و خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔

تاہم سوئس حکام کی جانب سے کوئی کارروائی نہ ہونے پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات سوئس سفیر کو طلب کیا تھا اور ایک بار پھر جنیوا میں 'پاکستان مخالف' تشہیری مہم پر احتجاج کیا تھا۔

اس مہم کے بعد نومبر میں برطانیہ کے دارالحکومت لندن کی ٹیکسیوں پر فری بلوچستان مہم کے پوسٹرز لگائے گئے تھے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے برطانوی دارالحکومت لندن میں ٹیکسیوں پر لگے 'فری بلوچستان' کے اشتہار پر برطانیہ سے احتجاج کرتے ہوئے اسے ملکی سالمیت پر براہ راست حملے کے مترادف قرار دیا تھا۔

سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر ٹومس ڈرو کو طلب کر کے ان سے لندن میں چند ٹیکسیوں پر لگے اشہتارات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے ترجمان سے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو گمراہ کرنے والے کامیاب نہیں ہوں گے، دو ہزار سے زیادہ فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے خوشحال بلوچستان پروگرام کی تجویز پیش کی، جس کا ڈھانچہ چار نکات پر مشتمل ہے۔