لاہور میں ملی مسلم لیگ کا پہلا ’سیاسی دفتر’ قائم

    • مصنف, عباد الحق
    • عہدہ, صحافی، لاہور

پاکستان میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ نے اپنے سیاسی چہرے ملی مسلم لیگ کا پہلا باقاعدہ دفتر کھول لیا ہے اور تنظیم کے سربراہ حافظ محمد سعید نے سیاسی جماعت کا افتتاح کیا۔

ملی مسلم لیگ کا پہلا دفتر سابق وزیراعظم نواز شریف کے انتخابی حلقے میں کھولا گیا ہے جہاں سے اب ان کی اہلیہ رکن قومی اسمبلی ہیں۔

ملی مسلم لیگ کے امیدوار نے اسی انتخابی حلقے یعنی این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں پہلی بار حصہ لیا تھا۔

جماعت الدعوۃ کے امیرحافظ محمد سعید نے قومی اسمبلی کے حلقہ 120 کے مختلف علاقوں کا دورہ بھی کیا اور علاقے کے مکینوں کے مسائل بھی سننے۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور ہائی کورٹ کے ریویو بورڈ کی نظر بندی ختم ہونے پرحافظ سعید اس طرح کی پہلی سرگرمی کے لیے متحرک ہوئے۔

جماعت الدعوۃ نےاپنے سیاسی چہرے ملی مسلم لیگ کا دفتر موہنی روڈ کے علاقے میں کھولا ہے۔

کلثوم نواز کے ننھیالی رشتہ دار بھی موہنی روڈ کے رہنے والے ہیں جبکہ کلثوم نواز کے کزن یاسین پہلوان کے بیٹے اور صوبائی وزیر بلال یاسین کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ 120 سے جماعت الدعوۃ کے امیدوار یعقوب شیخ نے ملی مسلم لیگ رجسٹرڈ نہ ہونے کہ بنا پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا اور چوتھے نمبر پر آئے۔

جماعت الدعوۃ کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات احمد ندیم کے مطابق این اے 120 میں جماعت الدعوۃ کے شیخ یعقوب ضمنی انتخاب میں حصہ لے چکے ہیں اور اب ان کے لیے پارٹی دفتر کھولا گیا ہے۔

احمد ندیم کے بقول آئندہ برس عام انتخابات ہونے والے ہیں اسی لیے انتخابی سرگرمی شروع کی گئی ہے۔

2013 کے انتخابات میں کلثوم نواز کی کزن اور زبیرجھارا کی بیوہ سائرہ زبیر نے بھی اسی حلقہ سے نواز شریف کے خلاف کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے البتہ بعد میں کاغذات نامزدگی واپس لے لیے تھے.

سائرہ زبیر سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے امیدوار تھیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کو آج تک این اے 120 میں انتخابی شکست نہیں ہوئی ہے۔ مشرف دور یعنی 2002 میں پہلے بار جسٹس ملک قیوم کے بھائی پرویز ملک بھی اس حلقے میں مسلم لیگ نون کی جانب سے کامیاب ہوئے تھے۔

2008 میں کلثوم نواز کے کزن کے بیٹے بلال یاسین نے اسی حلقے سے کامیابی حاصل کی جبکہ 2013 نواز شریف خود حلقے سے منتخب ہوکر تیسری بار وزیراعظم بنے۔

نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد اس حلقے میں ان کی بیگم کلثوم نواز منتخب ہوئیں لیکن بیماری کی وجہ سے ابھی تک قومی اسمبلی کی رکن کی حیثیت سے حلف نہیں اٹھا سکی ہیں۔

ملی مسلم لیگ ابھی سیاسی جماعت کی حیثیت سے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہیں ہوسکی ہے اور وفاقی وزارت داخلہ نے بھی اس کی رجسٹریشن کی مخالفت کی ہے۔

جماعت الدعوۃ نے ملی مسلم لیگ کا دفتر ایک ایسے وقت میں کھولا جب آئندہ برس 2018 کے عام انتخابات ہونے والے ہیں اور سیاسی تجزیہ نگار اسے انتخابات کی تیاری قرار دے رہے ہیں۔