آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
رانا ثنا اللہ: ماڈل ٹاؤن واقعے کی رپورٹ نقائص سے بھرپور
وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق ون مین ٹریبونل رپورٹ نقائص سے بھرپور ہے کیونکہ اس میں کسی حکومتی شحصیت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا البتہ حکومت نے اس رپورٹ کو شائع کر دیا ہے۔
لاہورہائی کورٹ کے لارجربنچ کی جانب سے ماڈل ٹاؤن رپورٹ منظر عام پر لانے کے حکم کے بعد لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 'پچھلے ڈھائی تین سال سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا رہا کہ اس رپورٹ میں ایسے ثبوت ہیں کہ اس سے نجانے کیا ہو جائے گا۔ یہ سب سیاسی انتقام اور پروپیگنڈا تھا۔‘
مزید پڑھیے
واضح رہے کہ پاکستان عوامی تحریک ایک طریل عرصے سے ماڈل ٹاؤن واقعے کی رپورٹ کو عام کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
انھوں نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ’اس پوری رپورٹ میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے جس میں وزیرِ اعلی پنجاب شہباز شریف کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھرایا گیا ہو'۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اس رپورٹ میں جگہ بہ جگہ یہ ذکر ہے کہ پی اے ٹی کے ورکرز کی طرف سے مزاحمت کی گئی جو کہ بعد میں پولیس کے ساتھ ان کے تصادم کی وجہ بنی اور وہ ثبوت میڈیا کے پاس بھی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 'رپورٹ میں جگہ جگہ لکھا ہے پی اے ٹی کی طرف سے لوگوں کو اکھٹا کیا گیا لیکن یہ بھی بے نتیجہ ہے کہ یہ نہیں بتایا گیا کہ کس نے اکھٹے کیے؟ پولیس کے اوپر حملہ آور ہونے کے لیے ان مظلوموں کو اکھٹا کس نے کیا تھا۔ وہ کون تھا جو یہ کہتا رہا کہ اب شہادت کا وقت آ گیا ہے آپ باہر نکلیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر قانون نے ایک بار پھر کہا کہ یہ رپورٹ قانون کی نظر میں خامیوں سے بھر پور ہے اور یہ غیر متعلقہ شواہد پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے شہادت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔‘
اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ' آج اعلی عدلیہ نے بے بس لوگوں کی مدد کرکے اپنا آئینی فریضہ ادا کیاہے۔'
انھوں نے کہا کہ 'قاتلوں کی نشاندہی کی وجہ سے اس رپورٹ کو دبا دیا گیا۔'
طاہر القادری نے عدالت کے احکامات پڑھ کرسنائےکہ عدالت نے کہا ہے کہ متاثرین کو سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ کوفوری طور دی جائےاور ایک ماہ کےاندر عام عوام اور میڈیا کے لیے اسے شایع کیاجائے۔
انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ نواز شریف کی اجازت کے بغیر شہباز شریف ماڈل ٹاؤن میں کاروائی نہیں کرسکتے تھے تو اس لیے نواز شریف کو بھی سزا ہونی چاہئیے۔ انھوں نے کہا کہ 'وہ وقت دور نہیں کہ آپ جلد ہی ان دونوں بھائیوں اور ان کے حواریوں کو جیل میں دیکھیں گے'۔