آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’آپ لڑ لیں میں عدالت سے چلا جاتا ہوں‘
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر بدھ کو ایک بار پھر احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ حسب معمول تین وفاقی وزرا اپنی پارٹی کے سربراہ کے استقبال کے لیے آدھا گھنٹہ پہلے ہی جوڈیشل کمپلکس، اسلام آباد میں موجود تھے۔
احتساب عدالت کے جج نے میاں نواز شریف کو 20 سے27 نومبر تک حاضری سے استثنیٰ دیا ہوا تھا لیکن اس کے باوجود وہ عدالت میں پیش ہوئے۔
اطلاعات ونشریات کی وزیر مملکت مریم اورنگ زیب سے جب صحافیوں نے یہ پوچھا کہ استثنیٰ ملنے کے باوجود نواز شریف عدالت میں کیوں پیش ہوئے تو وزیر مملکت نے بےساختہ کہا کہ ’شکر ہے یہ نہیں کہا کہ عدالتوں میں پیش کیوں نہیں ہو رہے؟‘
یہ بھی پڑھیں
کمرہ عدالت میں داخل ہونے کے بعد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف خوش گوار موڈ میں تھے۔ شاید اس کی وجہ منگل کے روز حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں انتخابی اصلاحات کے خلاف پیش کیے جانے والے بل کا مسترد ہونا تھا۔
عدالت میں موجود صحافیوں سے اُنھوں نے خود پوچھا کہ آج کی کیا تازہ خبر ہے؟‘
سابق وزیر اعظم کو شاید یہ توقع تھی کہ میڈیا کے لوگ قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کے بارے میں پوچھیں گے لیکن صحافیوں نے یہی سوال کیا کہ استثنیٰ کے باوجود وہ عدالت میں کیوں پیش ہوئے جس پر نواز شریف مسکرا دیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق وزیر اعظم اور ان کی بیٹی مریم نواز کو احتساب عدالت کے جج کے سامنے والی کرسیوں پر بٹھایا گیا جبکہ نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو آخری نشستوں پر ہی جگہ ملی۔ لیکن صرف اتنا تھا کہ آج وہ اس نشست پر بیٹھ گئے جن پر نیب کی استغاثہ کی ٹیم بیٹھتی ہے۔
ایک صحافی کی پتلون کی جیب سے پرس کچھ باہر نکلا ہوا تھا۔ نواز شریف نے اس صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’کہ کچھ گر رہا ہے اس کو سنبھالیں، کسی نے نکال لیا تو الزام مجھی پر آئے گا۔‘
عدالت میں قہقہہ بلند ہوا، جس پر احتساب عدالت کے جج نے ناگواری کا اظہار کیا۔
احتساب عدالت نے بدھ کے روز سماعت کے دوران چار گواہوں کو پیش ہونے کا کہا تھا اور نواز شریف کی موجودگی میں تین گواہان جب اپنا بیان ریکارڈ کروا رہے تھے تو سابق وزیر اعظم نے ان کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔
گواہوں کے بیانات اور پھر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے ان پر جرح کے دوران نیب کی استغاثہ کی ٹیم اور نواز شریف کے وکیل کے درمیان سخت جملوں کا بھی تبادلہ ہوا جس پر جج محمد بشیر نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں جانب کے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ لڑ لیں میں عدالت سے چلا جاتا ہوں۔‘
نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے حاضری سے استثنیٰ کے بارے میں نئی درخواستیں دی ہیں تاہم عدالت نے ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔