آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوشلستان: ’مجھے سکرپٹ لکھنے والے سے گلہ نہیں‘
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
سوشلستان میں لوگ پریشان ہیں کہ پاکستانی سیاسی منظرنامے پر تازہ ارینجڈ میریج کتنے دیر چلے گی۔ کیا یہ ارینجڈ ہے یا لو میریج ہے اور اگر لو میریج ہے تو کیا لو ٹرائینگل ہے؟ دوسری جانب لوگ اسلام آباد اور راولپنڈی کو یرغمال بنائے جانے پر غصے میں ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ حیرت پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے غصے پر کی جا رہی ہے۔ مگر یہ ’سکرپٹ‘ کی گردان کیا ہے؟ اسی پر بات کریں گے آج کے سوشلستان میں۔
سکرپٹ کمزور تھا
مبشر علی زیدی نے لکھا کہ 'فلم میں زیادہ ٹوئسٹ آئیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ سکرپٹ کمزور تھا۔ مصطفیٰ کمال ڈور لے آئے اور فاروق ستار پتنگ، اب دیکھیے ہوا کدھر کی ہے؟'
زبیر نواز نے اس پر تبصرہ کیا کہ 'کمزور سکرپٹ کے باوجود فلم کے کرداروں نے اپنی بھرپور پرفارمنس سے فلم کو چار چاند لگائے ہوئے ہیں۔'
شکیل خان کا خیال کچھ مختلف تھا کہ سکرپٹ کمزور نہیں رائٹر بالا جی اسٹارپلس والوں کا ہے بار بار بھول جاتا ہے کہ کس کی کس سے کیا رشتہ داری تھی۔'
سلمان نے لکھا 'غالب خیال ہے کہ سکرپٹ ساتھ ساتھ لکھا جا رہا ہے۔ ادھر صفحہ مکمل ہوتا ہے ادھر سپاٹ بوائے دوڑ کر ڈائریکٹر کو دے کر آتا ہے۔ واپس آتے آتے ایک اور کلائیمکس آ چکا ہوتا ہے۔'
مگر اس سکرپٹ کے ساتھ چلنے والے بیانیے پر تبصرہ کرتے ہوئے جعفر حسین نے ٹویٹ کی کہ 'سیاستدانوں کے تماشے بہت ہوگئے۔ پاک فوج کو ملک بچانے کے لیے آگے آکر پانچ سال کے لیے حکومت سنبھال لینی چاہیے۔ قیامت تک قائم رہنے کے لیے بننے والا ملک صرف اسی صورت بچ سکتا ہے۔'
'دیکھو کون یہ بات کہہ رہا ہے؟'
اسلام آباد ایک جانب کہر آلود موسم کے ہاتھوں یرغمال بنا رہا تو اس کے ساتھ ساتھ ایک دھرنے کو روکنے کے چکر میں سارا نظام درہم برہم ہوا ہے۔
اسی کا شکوہ کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر نے وزیرِداخلہ احسن اقبال کو مخاطب کر کے کچھ یوں لکھا 'یقیناً اکیسویں صدی میں ایک ملک کے دارالحکومت کو محفوظ بنانے کے طریقے ہوتے ہوں گے بجائے اس کے کہ آپ شہریوں کی زندگیاں اجیرن بنا کر رکھ دیں جیسا کہ اسلام آباد میں گذشتہ چند دنوں سے ہو رہا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پر وزیرِ داخلہ نے جواب دیا 'دیکھو کون یہ بات کہہ رہا ہے؟'
اس ٹویٹ کے ساتھ ہی مختلف جانب سے اسد عمر پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا جیسا کہ مشرف زیدی نے لکھا 'بھائی آپ نے اسلام آباد کو 14 اگست 2014 سے 17 دسمبر 2014 تک مفلوج کر کے رکھا۔ پارلیمان پر حملہ کیا، پی ٹی وی پر حملہ کیا عصمت اللہ جونیجو کے ساتھ مار پیٹ کی، نیوز چینلز کی ڈی ایس این جیز کی توڑ پھوڑ کی۔ اور کرتے رہے کیونکہ احسن اقبال اینڈ کمپنی کے پاس اُس وقت بھی اکیسویں صدی کے مطابق دارلحکومت کو محفوظ بنانے کے طریقے نہیں تھے۔'
اسی دوران سینیٹر شیری رحمان نے ٹویٹ کی کہ 'میں یہ پڑھ کر ششدر رہ گئی کہ صرف 2014 کے دھرنے کے دوران وزارتِ داخلہ اس سے نمٹنے کے لیے 70 کروڑ روپے خرچ کیے۔'