خیبر پختونخوا میں دینی مدارس کو تعلیمی بورڈز سے منسلک کرنے کی ہدایت

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں تمام مدرسوں کو تعلیمی بورڈز سے منسلک کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

تاہم دینی اداروں کے منتظمین نے مدرسوں کے اندراج کے عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

محکمہ ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی طرف سے خیبر پختونخوا کے تمام تعلیمی بورڈز کو ہدایت کی گئی ہے کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ایک ماہ کے اندر اندر ان کے اندراج کا عمل مکمل کرنے کو یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

اس ضمن میں ڈیرہ اسمعیل خان کے محکمہ ثانوی و اعلی تعلیمی بورڈ کی طرف سے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق اس اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزرات مذہبی امور حکومت پاکستان کی ہدایت کے مطابق خیبر پختونخوا کے تمام دینی مدارس کی رجسٹریشن کی ذمہ داری متعلقہ تعلیمی بورڈز کو سونپ دی گئی ہے۔

سیکرٹری ایجوکیشن کے دستخط سے جاری کردہ اس اعلامیے کے مطابق ڈیرہ اسمعیل خان اور ٹانک کے اضلاع میں واقع دینی مدارس کے منتظمین کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے مدرسوں کی تفصیلات تعلیمی بورڈ کے اکیڈمک سکیشن میں جمع کرائیں۔

محکمہ تعلیم کے اعلیٰ اہلکاروں کے مطابق اس ضمن میں متعلقہ تعلیمی بورڈز کو پہلے ہی 11 صفحات پر مشتمل ایک فارم دیا گیا ہے جس میں مدرسوں سے متعلق تمام کوائف درج کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ فارم میں مدارس کے منتظمین کو اس بات کی ضمانت دینا ہوگی کہ ان کا مدرسہ نہ تو دہشت گردی، شدت پسندی، فرقہ واریت یا ملک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے اور نہ ہی ایسی تعلیم دے گا۔

اس کے علاوہ تمام دینی مدارس کو آمدن کے ذرائع بتانے کے ساتھ ساتھ ہر سال ان کا سرکاری ادارے سے آڈٹ بھی کرایا جائے گا۔

تاہم دوسری طرف خیبر پختونخوا میں قائم دینی مدارس کے منتظمین نے حکومت کی طرف سے شروع کیے جانے والے اس عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پشاور میں ایک دینی مدرسے کے مہتمم نے بی بی سی کو نام نہ بتانے کے شرط پر بتایا کہ حکومت کا یہ دعویٰ غلط بیانی پر مبنی ہے کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کا عمل ابھی شروع کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مدراس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا عمل تو کئی سال پہلے سے جاری ہے جس پر دینی مدارس کے متنظمین اور علما کرام کو شدید تحفظات رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں تعلیمی بورڈز کے افسران اور مدارس کے ناظمین کے مابین ایک اہم اجلاس دو دن بعد متوقع ہے جس کے بعد ان کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو مفصل بیان جاری کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں ایک اندازے کے مطابق تین ہزار سے زیادہ دینی مدارس قائم ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد میں وزرات داخلہ، چاروں صوبوں کے نمائندوں اور دینی مدارس کے بورڈز کے ممبران پر مشتمل ایک اہم اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں ملک بھر کے تمام دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں دینی مدارس پانچ مکتبہ فکر پر مشتمل ہے جو اسلام آباد میں موجود بورڈ وفاق المدارس العربیہ سے منسلک ہے۔

وفاق المدارس کی ویب سائٹ پر شائع اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اس وقت 17952 دینی مدرسے موجود ہیں جن میں 1420260 طلبا اور 782252 طالبات زیر تعلیم ہیں۔

ان مدرسوں میں 76852 اساتذہ اور 34783 دیگر عملے کے افراد کام کر رہے ہیں۔