آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ہم کیسے مافیا ہیں جو عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں؟
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
احتساب عدالت کے باہر سکیورٹی ہونے کے باوجود جمعرات کو بہت خاموشی تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ یہاں کچھ بھی نہیں ہونے والا۔
لوگ اپنی شناخت کروانے کے بعد جوڈیشل کمپلیکس میں جا رہے تھے جبکہ اس سے پہلے کسی بھی غیر متعقلہ شخص کو اس عمارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی، جہاں پر احتساب عدالت کے علاوہ دیگر نو عدالتیں بھی موجود ہیں۔
احتساب عدالت کے رجسٹرار نے 45 افراد کی فہرست پولیس اہلکاروں کے حوالے کی تھی جن میں 15 افراد ملزمان ان کے وکلا اور وفاقی وزرا تھے۔ نیب سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد 15 تھی جبکہ میڈیا والوں کی تعداد بھی 15 ہی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سماعت شروع ہونے سے پہلے اپنے سٹینو کو نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر پر فرد جرم عائد کرنے کے بارے میں ڈکٹیٹ کروارہے تھے۔
میڈیا کے نمائندوں کو دیکھ کر ایک صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے جج کا کہنا تھا کہ کیا آپ لوگوں کی تعداد میں کمی نہیں آ سکتی اور آگر آپ لوگ 15 کی بجائے 5 آجائیں جس پر ایک صحافی کا کہنا تھا کہ ’مائی لارڈ پہلے ہی بہت سے صحافی کمرہ عدالت کے باہر کھڑے ہیں اس لیے اب اس کی تعداد میں کمی نہیں کی جاسکتی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف لندن فلیٹس کی ملکیت سے متعلق ریفرنس کی سماعت شروع ہونے سے پہلے مریم نواز نے کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ اور جب ڈان کے نمائندے سے تعارف ہوا تو اس پر ایک اور صحافی نے کہا کہ اصل ڈان تو یہ ہیں جس پر کمرہ عدالت میں ایک قہقہہ بلند ہوا۔
اس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے تو ہمیں گارڈ فادر اور سیسیلیئن مافیا قرار دیا ہےاور ہم کیسے مافیا ہیں جو عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔‘
صحافیوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو جب مقامی میڈیا پر چلی تو مریم نواز نے فوری طور پر اپنا موبائل نکالا اور ایک نجی ٹی وی چینل کا کلپ بھی صحافیوں کو دکھایا جس پر مریم نواز کا حوالہ دے کر کہا گیا تھا کہ ’اصل ڈان تو میڈیا والے ہیں۔‘
اس واقعے پر متعقلہ نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر نے معذرت کی۔
احتساب عدالت کے جج نے جب ان ریفرنس کی سماعت شروع کی تو ملزمان کی طرف سے ایک درخواست دی گئی جس میں کہا گیا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر نظرثانی کی درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک فردجرم کی کارروائی کو موخر کی جائے۔ عدالت نے اس درخواست پر دس منٹ کے لیے کارروائی معطل کردی۔
وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عدالت نے اس درخواست کو مسترد کردیا اس پر ملزمان کی جانب سے ایک اور درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ ان تین گواہان کے بیانات کی نقول فراہم نہیں کی گئیں جنھوں نے نیب کے حکام کو اپنے بیانات قلمبند کروائے تھے۔
وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی اور یہ درخواست بھی مسترد کردی گئی تو نواز شریف اور ان کی بیٹی کی طرف سے ایک اور درخواست دائر کر دی گئی جس میں کہا گیا کہ ان تینوں ریفرنسوں کو ایک ہی ریفرنس بنا کر عدالتی کارروائی کا آغاز ہونا چاہیے۔ اس پر بھی عدالتی وقفہ کردیا گیا جس پر وہاں پر موجود صحافیوں کا کہنا تھا کہ بعض جگہوں پر کھانے کا وقفہ ہوتا ہے، کہیں چائے کا وقفہ ہوتا ہے اور کہیں نماز کا وقفہ ہوتا لیکن آج عدالتی کارروائی میں ’وقفہ برائے وقفہ ہے۔‘
اس درخواست پر بھی فیصلہ کرنے کے لیے جج اپنے چیمبر میں گئے اور اس درخواست کو بھی مسترد کردیا اس کے بعد ایک اور درخواست دائر کر دی گئی اور یہ درخواست وزیر مملکت محسن شاہنواز رانجھا کی طرف دائر کی گئی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ اہم نوعیت کے ریفرنس کی سماعت ہو رہی ہے اور اس بارے میں وزرا نے مختلف ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز میں گفتگو کرنا ہوتی ہے اس لیے یا تو وزرا کی تعداد بڑھائی جائے اور یا پھر اس عدالت کو کہیں اور منتقل کردیں۔
اس پر احتساب عدالت کے جج نے وزیر مملکت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں وفاقی حکومت نہیں ہوں وفاقی حکومت آپ ہیں اس لیے وہ خود ہی فیصلہ کریں کہ اس کی سماعت کہاں کی جائے۔‘ عدالت کا کہنا تھا کہ نہ تو وہ اس پر اپنی رضامندی ظاہر کریں گے اور نہ ہی اس کو مسترد کریں گے۔
ان درخواستوں کی سماعت کے دوران نواز شریف اور مریم نواز کے وکلا دلائل دیتے رہے تو جج کی ایک نظر وکیل کی طرف اُٹھتی اور اسی دوران وہ ملزمان پر عائد کی جانے والی فرد جرم میں سٹینو کی طرف سے کی جانے والی غلطیوں کو درست کرنے میں مصروف ہو جاتے۔
آج عدالت میں بھی اتنا سکون تھا کہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ وہی کمرہ عدالت ہے جس میں گذشتہ سماعتوں کے دوران تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی۔