آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
MeToo# ’جنسی ہراس کے معاملے سے منہ موڑ کر اسے بڑھاوا دیا‘
- مصنف, دیویہ آریہ
- عہدہ, بی بی سی، دلی
کیا آپ نے کالج میں کسی لڑکی کے زیر جامہ کو کھینچا اور اسے محض ایک مذاق سمجھا؟
کیا آپ نے کبھی کسی عورت کو بلاوجہ چُھوا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اس سے پریشان ہوسکتی ہے؟
شارق رفیق نے ایسا ہی کچھ کرنے کا اعتراف کیا ہے اور وہ اس پر نادم ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اندر 'گندگی بھر گئی تھی'۔
میرا شارق سے تعارف اس وقت ہوا جب میں ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ MeToo # کے ساتھ مردوں کی جانب سے کی گئی پوسٹس دیکھ رہی تھی۔
ہالی ووڈ پروڈیوسر ہاروی وائن سٹین کے خلاف فنکاروں کو ہراساں کرنے کے الزامات کے بعد ٹوئٹر پر یہ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنا شروع ہوا جس میں خواتین نے اپنے ساتھ جنسی ہراس اور تشدد کے واقعات کا ذکر شروع کیا۔
ایک نئے ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک بار پھر خواتین کی آواز بلند ہوئی ہے اور اس مسئلے پر اپنی آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لہٰذا میری دلچسپی مردوں کے تاثرات میں تھی۔ اگر عورتیں اپنے ہراساں کیے جانے کے بارے میں بات کرتی ہیں تو کیا مرد بھی بہادر ہو جائیں گے اور تسلیم کریں گے کہ انھوں نے ظلم کیا ہے؟
کیا وہ بھی سمجھتے ہیں کہ انھوں نے ہراساں کیا ہے؟
عمیر احمد نے بھی ٹویٹ کیا اور کہا کہ وہ شرمندہ ہیں کہ انھوں نے اپنے کام کی جگہ پر جنسی ہراس کے ایک معاملے سے منہ موڑ کر اسے بڑھاوا دیا۔
ان کے بقول جب ان کی ایک خاتون ساتھی نے انہیں بتایا کہ وہ اس بات پر بہت مایوس ہوئیں کہ عمیر نے اس دوسرے آدمی کی حمایت کی اور عمیر کو اس وقت غلطی کا احساس ہوا۔
عمیر جانتے تھے کہ اس آدمی کا بظاہر دوستانہ رویہ حد سے تجاوز کر سکتا ہے۔
اس معاملے میں سب سے پہلے ان رویوں کی شناخت ضروری ہے جو زیادتی کے زمرے میں آتے ہیں اس کے بعد اس کے حل کے لیے ضروری جنگ کی وضاحت ہوگی۔
ہمیشہ کچھ نہ کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے پیسہ، عزت یا کیریئر۔ ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔
لیکن شارق اور عمیر کی طرح دیگر مردوں کو بھی یہ رویہ ترک کرنا ہوگا اور یہ سوچنا ہے کہ اب وہ کیسے رہیں گے۔ انہیں خواتین کو سننا ہوگا اور احساس دلانا ہوگا کہ ان سے پیار کیا جاتا ہے۔
اور یہ میری سوچ نہیں ہے یہ وہ باتیں ہیں جو مردوں نے ہی دوسرے مردوں سے براہِ راست کہی ہیں۔