آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خواتین کو چھری مارنے کے شبہے میں گرفتار شخص کراچی منتقل
- مصنف, حنا سعید
- عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور
کراچی میں خواتین کو چھریوں کے وار سے زخمی کرنے کی 15 وارداتوں میں ملوث ہونے کے شبہے میں پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین سے حراست میں لیے جانے والے محمد وسیم نامی شخص کو کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈی پی او ساہیوال کے افسرِ تعلقاتِ عامہ محمد نذیر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس موجود اطلاعات کے مطابق کراچی پولیس نے وسیم کو اتوار کو منڈی بہاؤالدین سے گرفتار کیا تھا تاہم اس وقت ساہیوال پولیس ان کے ساتھ نہیں تھی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ساہیوال پولیس نے وسیم کی گرفتاری میں کراچی پولیس کی صرف معلوماتی معاونت کی۔
محمد نذیر کے مطابق 'کچھ روز قبل کراچی پولیس نے ساہیوال پولیس سے رابطہ کیا تو ساہیوال پولیس نے ان کی معاونت کرتے ہوئے وسیم کا بائیوڈیٹا، اس کے گھر،رشتہ داروں، دوستوں کی تفصیلات اور پولیس ڈیٹا مہیا کیا۔'
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'ہماری اطلاعات کے مطابق اب وسیم کراچی پولیس کی حراست میں ہی ہے، جو اسے کراچی لے جا چکے ہیں۔ ڈی آئی جی ایسٹ کراچی خواجہ سلطان نے بھی وسیم کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔'
محمد نذیر نے بتایا کہ وسیم پنجاب میں ایسے واقعات میں ملوث ہونے کے باعث سزا کاٹ چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'ساہیوال اور چیچہ وطنی کے علاقوں میں 2013 میں چھری مار حملوں کا آغاز ہوا تھا اور متاثرین نے مقدمات درج کروائے تھے۔ تفتیش ہوئی تو 2015 میں ساہیوال سے محمد وسیم نامی شخص کو گرفتار کیا گیا جس پر پنجاب کے مختلف پولیس سٹیشنوں میں اقدام قتل اور ڈکیتی کے کل 12 مقدمے درج ہوئے۔ گرفتاری کے بعد چالان ہوا، اس کے بعد مقدمے چلے جن میں جج صاحب نے اسے آٹھ ماہ کی سزا دی البتہ سزا کاٹنے کے بعد وہ رہا ہوا تو ساہیوال سے غائب ہو گیا۔'
اس سوال پر کہ آیا کراچی پولیس کے پاس وسیم کے خلاف کوئی نئے ثبوت ہیں جن کی بنیاد پر اسے کراچی میں پیش آنے والی وارداتوں میں ملوث پایا گیا ہے۔ محمد نذیر کا کہنا تھا کہ اس کی گرفتاری کا مقصد شامل تفتیش کرنا ہے۔
'وسیم کی گرفتاری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے کراچی میں پیش آنے والے چھری مار وارداتوں میں شامل کر دیا جائے۔ اس کا لنک دیکھیں گے، ابتدائی معلومات اکٹھی کریں گے۔ وسیم کے موبائل ڈیٹا سے اس کی کراچی میں موجودگی کو یقینی بنانے کے بعد، اگر وہ ملوث ہوا تو پھر ہی چالان ہوگا۔'
انھوں نے کہا کہ 'اس کی حراست کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان وارداتوں میں بھی شامل ہے۔ وسیم کو شامل تفتیش کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ماضی میں ایسے معاملات میں ملوث رہا ہے اور اسے سزا بھی ہوئی ہے۔'
خیال رہے کہ کراچی پولیس کو شبہ ہے کہ محمد وسیم ہی وہ ملزم ہے جو گلستان جوہر میں خواتین کو چھری مار کر زخمی کرنے کی وارداتوں میں ملوث ہے۔
یاد رہے کہ کراچی میں ان وارداتوں میں اب تک پندرہ خواتین کو زخمی کیا گیا ہے اور ان وارداتوں کے بعد شہر کے ان علاقوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جہاں یہ واقعات پیش آتے رہے ہیں۔