’الیکشن کمیشن کے پاس 350 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے بارے میں معلومات نہیں ہیں‘

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملی مسلم لیگ کو بطور سیاسی جماعت رجسٹر کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

کمیشن نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ جب تک وزارتِ داخلہ اسے کلیئرنس نہیں دیتی اس وقت تک اس جماعت کی رجسٹریشن کا عمل شروع نہیں کیا جا سکتا ہے۔

وزارت داخلہ نے چند روز قبل الیکشن کمیشن کو لکھے گئے ایک خط میں ملی مسلم لیگ کو بطور سیاسی جماعت رجسٹر کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا تعلق کالعدم قرار دی گئی تنظیموں لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ سے ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ریٹائرڈ) سردار رضا کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے چار رکنی بینچ نے بدھ کو ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

ملی مسلم لیگ کے وکیل راجہ عبدالرحمٰن ایڈووکیٹ نے درخواست کے حق میں دلائل دینا شروع کیے تو چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ وزارت داخلہ نے تو ملی مسلم لیگ کی بطور سیاسی جماعت رجٹسریشن کی مخالفت کی ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وزارت داخلہ نے ان کی جماعت کے بارے میں جو تحفظات ظاہر کیے ہیں وہ بدنیتی پر مبنی ہیں۔

بینچ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اب تک 350 سیاسی جماعتیں رجسٹر ہیں اور ان کے بارے میں اس کے پاس معلومات نہیں ہیں کہ وہ کس طرح سے آپریٹ کر رہی ہیں؟

جسٹس (ریٹائرڈ) سردار رضا خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو کسی جماعت کی حقیقت کا علم نہیں ہے۔ 'کمیشن نے تو ملی مسلم لیگ کے بارے میں اخبار میں پڑھ کر وزارت داخلہ سے جواب مانگا تھا۔'

چیف الیکشن کمشنر کے مطابق وزارت داخلہ کے خط میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملی مسلم لیگ کا تعلق کالعدم جماعت سے ہے۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں ملی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ایک آزاد امیدوار یعقوب شیخ نے حصہ لیا تھا جس پر سیاسی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ملی مسلم لیگ کے وکیل عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو وزارت داخلہ کے خط میں استعمال کی گئی زبان پر اعتراض ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس جماعت کا تعلق کالعدم قرار دی گئی دو تنظمیوں سے ہے اور اس کی رجسٹریشن سے سیاست میں تشدد کا عنصر آ سکتا ہے۔

عبدالرحمٰن نے بینچ کے سامنے سوال اٹھایا کہ کیا الیکشن کمیشن وزارت داخلہ کی سفارش پر عملدرآمد کرنے کا پابند ہے اور کیا اب کسی بھی سیاسی جماعت کو رجٹسریشن کے لیے وزارت داخلہ سے کلیئرنس لینا ہوگی؟

چیف الیکشن کمشنر نے ملی مسلم لیگ کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ وزارت داخلہ سے کلیئرنس کیوں حاصل نہیں کر لیتے؟

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت کی رجسٹریشن سے متعلق تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں اور ہمارے کسی پارٹی عہدیدار کا کالعدم تنظیم سے تعلق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن قانون کے مطابق کسی جماعت کی رجسٹریشن کے لیے وزارت داخلہ سے رائے لینے کا پابند نہیں ہے۔