پی آئی اے کی نیویارک کی پروازں کی ’بندش‘

    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پی آئی اے نیویارک کے لیے ہفتہ وار دو پروازیں حسبِ معمول جاری رکهے گی اور اس بارے میں فیصلہ جلد ہی کر کے عوام کو مطلع کر دیا جائے گا۔

پاکستان کے مقامی میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ پی آئی اے نے 31 اکتوبر سے اپنی پاکستان سے نیویارک کی پروازیں روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی آئی اے اس روٹ پر گذشتہ 57 سال سے پروازیں چلا رہی ہے جن کا سلسہ 1961 میں شروع ہوا تھا اور ایک وقت میں پی آئی اے روزانہ پرواز بھی چلاتی رہی ہے۔

یاد رہے کہ پی آئی اے کے چیئرمین عرفان الہٰی نے چند ماہ قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ روٹ گذشتہ ایک دہائی سے خسارے میں جا رہا ہے۔

اس سے پہلے سابق چیئرمین اعظم سہگل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ موجودہ حالت میں اس روٹ پر پروازیں جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ آپ براہِ راست پرواز کر نہیں سکتے اور مانچسٹر کے راستے سے پرواز دو طرفہ نہیں جس کے اپنے مسائل ہیں۔

آخر اس روٹ کے خسارے کی وجہ کیا ہے؟

  • پی آئی اے کی نیو یارک جانے والی پروازوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ان میں سے سینیچر کو جانے والی پرواز کراچی سے پہلے مسافروں کو لاہور لاتی ہے جس کے بعد لاہور سے مانچسٹر اور پهر مانچسٹر سے نیو یارک اور پهر واپسی پر نیو یارک سے براەِ راست لاہور آتی ہے۔ نیویارک سے لاہور تو پرواز ہر مسافر کے لیے مناسب ہے کیونکہ یہ براەِ راست ہے مگر پاکستان سے جاتے ہوئے یہ پرواز براەِ راست نہیں جا سکتی جس کی سب سے بڑی وجہ امیگریشن کے قوانین ہیں۔
  • دوسری بڑی وجہ تاخیر ہے جو کہ لاہور یا مانچسٹر میں ہوتی ہے جس کی وجہ سے پی آئی اے کو ایک طرف تو برطانوی قوانین کے تحت بهاری جرمانے ادا کرنے پڑتے ہیں اور دوسری جانب اگر مسافر پهنس جائیں تو ان کے ہوٹل اور دوسرے انتظامات کا بوجھ بهی پڑتا ہے۔
  • تیسری بڑی وجہ غیر یقینی صورتحال ہے کہ پرواز جائے گی بهی یا نہیں کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پی آئی اے ٹکٹ فروخت نہ کرنے کی صورت میں دونوں میں سے ایک پرواز بعض اوقات منسوخ کر دیتی ہے۔
  • تیسری بڑی وجہ عملے اور طیارے کی ہے کیونکہ پی آئی اے نے اس روٹ اور ٹورانٹو کی پروازوں کے لیے دو خصوصی بوئنگ ٹرپل سیون لانگ رینج طیارے خریدے تهے جو اس روٹ کے لیے نان سٹاپ پرواز کر سکتے ہیں۔ مگر طیارہ جب تک مانچسٹر پہنچتا ہے تو اس کے عملے کو پرواز میں آٹھ سے دس گهنٹے ہو چکے ہوتے ہیں اس لیے پی آئی اے اس عملے کو مانچسٹر میں قیام کرواتی ہے اور نیا عملہ طیارە لے کر نیو یارک جاتا ہے۔ یہ ایک اضافی خرچ ہے جو مثال کے طور پر ٹورانٹو جانے والی پرواز میں نہیں ہوتا جس کا عملہ طیارے کے اندر موجود عملے کے آرام کی جگہ میں آرام کرتے ہیں اور اکٹهے ٹوارنٹو میں اترتے ہیں۔
  • اور سب سے بڑی وجہ اس روٹ کے جاری رکهنے میں مبینہ سیاسی عمل دخل ہے۔ جب بهی پی آئی اے کی جانب سے اس روٹ کو بند کرنے یا تبدیل کرنے کی سنجیدە کوششیں کی گئیں تو پارلیمان کی کمیٹیوں کے اراکین کے شور شرابے میں یہ کوششیں دم توڑ گئی۔

اب بهی پی آئی اے کے کئی سینئر اہلکار دبے لفظوں میں یہ کہتے ہیں کہ 'پی آئی اے کی جرات نہیں کہ یہ پروازیں بند کر سکے‘۔

پی آئی اے کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’پی آئی اے نے دس سال قبل حکومت کو بتا دیا تها کہ اس روٹ کو اس حالت میں جاری رکهنا نقصان دە ہے مگر اس بات پر کسی نے دهیان نہیں دیا اور اگر دیا ہوتا تو یہ اربوں روپے کا خسارہ نہ ہوتا۔'

اس روٹ کو جاری رکھنے کا کوئی آپشن ہے؟

  • پی آئی اے اور ہوا بازی کے مختلف ماہرین سے بات کرنے پر جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب تک پی آئی اے کراچی یا لاہور میں امریکہ جانے والے مسافروں کی امیگریشن کا انتظام نہیں کر لیتی تب تک براەِ راست پروازوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور امیگریشن پاکستان میں ہونا ناممکنات میں سے ہے۔
  • اس کے علاوە پی آئی اے کے جرمن سی ای او نے نیویارک کی پروازوں کو جرمن شہر لیپزگ سے شروع کرنے کا منصوبہ پیش کیا تها جس میں ان کے مطابق جرمنی جانے والے پاکستانیوں کے لیے سہولیات اور کارگو کی آمدن سے اسے منافع بخش بنایا جا سکتا تها مگر اس منصوبے کا کوئی عملی اقدام آج تک سامنے نہیں آیا مگر اس چکر میں پی آئی اے کا ایک ایئربس اے تهری ٹین طیارە آج بهی لیپزگ میں پهنسا ہوا ہے۔
  • ایک اور رائے یہ ہے کہ پی آئی اے اگر نیویارک سے واپسی کی پرواز کو مانچسٹر سے منسلک کر کے چلائے تو وە مانچسٹر سے نیویارک جانے والے مسافروں کو اپنی جانب متوجہ کر سکتی ہے کیونکہ 'ففته فریڈم رائس' کی رو سے پی آئی اے کے پاس مانچسٹر سے مسافر لیجانے کا اختیار ہے۔
  • اور سب سے اہم منصوبہ یہ پیش کیا گیا کہ پی آئی اے اپنی ٹورانٹو کی پروازوں میں سے دو کو براستہ ٹورانٹو نیویارک بهجوائے اور ان مسافروں کو اس راستے واپس لائے جس کی وجہ سے اس کی دو پروازوں کے اخراجات اور عملے کو مانچسٹر میں ٹھرانے کے اخراجات، سب کی بچت ممکن ہوگی۔ اور مسافروں کی مانگ دیکھ کر پی آئی اے ٹورانٹو کی پروازوں کو روزانہ کی بنیاد پر چلا سکتی ہے جس سے اس منافع بخش روٹ کو مزید تقویت ملے گی اور سفر کرنے والے پاکستانیوں کو بهی فائدە ہو گا۔