’فری بلوچستان مہم پاکستان کی خودمختاری کے خلاف سازش ہے‘

،تصویر کا ذریعہMOFA
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی اسمبلی نے سوئٹزر لینڈ میں پاکستان کے خلاف تشہیری مہم کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کی خودمختاری اور بلوچستان کے خلاف ایک منظم عالمی سازش قرار دیا ہے۔
اسمبلی نے جمعرات کی شب اس سلسلے میں ایک قرارداد منظور کی۔
یہ قرارداد نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزرا رحمت صالح بلوچ، سردار اسلم بزنجو اور رکن اسمبلی میر خالد لانگو کے علاوہ نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کی جانب سے لائی گئی۔
نامہ نگار محمد کاظم نے بتایا کہ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دنوں سوئٹزر لینڈ میں تشہیری مہم چلائی گئی تھی۔
قرارداد کے مطابق چند ملک دشمن منفی عناصر، دشمن ملک سے پیسوں کی لالچ اور اپنے ذاتی مفادات کو حاصل کرنے کے لیے ملک کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔
مخلوط حکومت میں شامل وزرا اور رکن اسمبلی کی قرارداد کے مطابق اس گھناؤنی سازش کے خلاف بلوچستان کی عوام سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قرارداد کے مطابق 'بلوچستان ریاست پاکستان کا ایک مضبوط اور وسائل سے مالامال صوبہ ہے۔ عالمی قوتوں کی نظریں اس کے وسائل پر جمی ہیں جو کہ بلوچستان کی عوام کو قابل قبول نہیں'۔
منظور کی گئی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی وجود کے خلاف عالمی سازشوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کرکے سوئٹزر لینڈ کی حکومت کو بلوچستان کے عوام کے تحفظات سے باضابطہ طور پر آگاہ کرے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک اور قوم کے خلاف منفی عناصر کی سرکوبی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔
یاد رہے کہ سرحدی امور کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے قومی اسمبلی میں بدھ کو کہا تھا کہ بلوچستان لبریشن آرمی ایک علیحدگی پسند تنظیم ہے اور اس کی احتجاجی مہم اہمیت نہیں رکھتی۔
عبدالقادر بلوچ نے جواب دیتے ہوئے 'فری بلوچستان' نامی پوسٹرز مہم کی فنڈنگ کا الزام انڈیا پر عائد کیا اور بتایا کہ حکومت نے سوئٹزرلینڈ کی حکومت سے اس مہم کو بند کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔







