سندھ ہائی کورٹ کا آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو کام جاری رکھنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے تقرریوں اور تبادلوں کے اختیارات بھی بحال کردیے ہیں۔

اس سے پہلے ہائی کورٹ نے غیر سرکاری تنظیم پائلر کی درخواست پر فیصلہ محفوط کر لیا تھا۔

جسٹس منیب اختر اور جسٹس ارشد حسین پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جمعرات کو فیصلہ سنایا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں پولیس کو صوبائی سبجیکٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی اسمبلی کو پولیس کے بارے میں قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔

عدالت نے اس حوالے سے مزید واضح کیا کہ پولیس آرڈر سنہ 2002 کی منسوخی اور پولیس ایکٹ سنہ 2011 کا نفاذ آئین کے مطابق ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق آئی جی سندھ کی مدتِ ملازمت سندھ گورنمنٹ رولز آف بزنس مجریہ 1986 کے تحت واضح ہیں اور حکومت سندھ اس قانون کی انحرافی یا خلاف ورزری نہیں کرسکتی۔

'آئی جی سندھ کی نوکری مستقل ہے جس کی وضاحت سپریم کورٹ انیتا تراب کیسے میں کرچکی ہے۔ لہذا موجودہ آئی جی کو صرف اس صورت میں ہی ہٹایا جاسکتا ہے جب وہ قوانین سے انحراف کے مرتکب ہوئے ہوں۔‘

فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ 31 مارچ سنہ 2017 کو اے ڈی خواجہ کا تبادلہ کر کے سردار عبدالمجید دستی کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا جو قانون کے خلاف تھا کیونکہ اس میں آئی جی کو ہٹانے کا کوئی قانونی جواز نہیں بتایا گیا۔

عدالت نے سندھ کابینہ کی جانب سے آئی جی سندھ کے تبادلے کی توثیق کے نوٹیفیکشن کو بھی مسترد کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا کہ بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے پولیس اصلاحات کی ضرورت ہے۔

عدالت کے مطابق محکمہ پولیس میں مختصر عرصے میں ہونے والی تقرریاں اور تبادلے صورت حال کی خرابی کا سبب بنتی ہیں لہذا اس سے نمٹنے کے لیے پولیس فورس میں خود مختار قیادت ہونا لازمی ہے۔ پولیس سربراہ کا دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ افسران کے تبادلوں اور تقرریوں میں مکمل کنٹرول لازمی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے پولیس میں حکومت اور اس کے وزیروں کی مداخلت ختم ہونا چاہیے۔

عدالت نے آئی جی سندھ کو حکم دیا کہ ایک ماہ کے اندر پولیس میں تبادلوں اور تقرریوں کے حوالے سے پالیسی بنائی جائے اور اس کو صوبائی کابینہ میں 15 روز کے اندر منظور کیا جائے، اس وقت تک آئی جی سندھ ہی یہ تبادلے اور تقرریاں کرے گا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے پولیس فورس میں کئی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

یہ فیصلہ 30 مئی کو محفوظ کیا گیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صوبائی اسمبلی نے پولیس آرڈر سنہ 2002 کو منسوخ کر کے صوبے میں سنہ 1861 کا پولیس نظام پولیس ایکٹ سنہ 2011 کے ذریعے نفاذ کیا ہے جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

اسی دوران آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جس کے بعد توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی۔اس موقعے پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ غلام مصطفیٰ مہیسر کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلینج کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ حکومت سندھ اور آئی جی میں گذشتہ کئی ماہ سے سرد جنگ جاری ہے جس کے دوران آئی جی اے ڈی خواجہ کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا تھا اور ان کی خدمات وفاقی حکومت کے حوالے کر دی گئی تھیں۔