آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بینظیر بھٹو قتل کیس: ’ایسا لگتا ہے کہ القاعدہ کے عسکریت پسندوں کی فتح ہوئی‘
پاکستان پیپلزپارٹی نے بینظیر بھٹو کے قتل کیس میں راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کی جانب سے دیے گئے فیصلے پر سخت حیرانی اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'پارٹی کو یقین ہے کہ انصاف نہیں ہوا اور نہ ہی ہوتا ہوا نظر آیا ہے۔ القاعدہ اور طالبان دہشت گردوں کے خلاف ثبوت دیے گئے تھے لیکن ان کی بریت بہت حیران کن ہے اور متعدد سوالات اٹھاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ القاعدہ کے عسکریت پسندوں کی فتح ہوئی ہے‘۔
بیان میں پولیس اہلکاروں کو دی جانے والی سزا پر سوال اٹھایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس بات کا جواب نہیں ملا کہ کس نے حکم دیا تھا کہ جائے وقوعہ کو دھو دیا جائے اور تمام اہم ثبوتوں کو ضائع کر دیا جائے۔
’پولیس افسروں کی سزا اس وقت تک کمزور رہے گی جب تک کہ انہیں حکم دینے والے لوگوں کے خلاف مقدمہ نہیں چلتا اور سزا نہیں ہوتی۔'
بیان میں اس کیس کے پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار کی کیس کے اہم مرحلے میں ہلاکت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرنے والے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان میں کہا گیا کہ چونکہ پاکستان پیپلزپارٹی کو اس مقدمے میں فریق نہیں بنایا گیا تھا اس لیے پارٹی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف فوری طور پر اپیل دائر کرے جبکہ پیپلز پارٹی بھی اس مقدمے میں فریق بننے کے لیے عدالتی ذرائع کا استعمال کرے گی اور اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔