تجاوزات اور قبضے، نتیجہ کراچی زیر آب

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بارش کی وجہ سے کئی علاقے زیرآب آنے سے معمولات زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں جبکہ شہر میں ٹریفک کا نظام تقریباً مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

کراچی میں بارش کا سلسلہ بدھ کی شام سے شروع ہوا تھا اور جمعرات کو بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔

محکمۂ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ عبدالرشید کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ 130 ملی میٹر بارش نارتھ کراچی میں ریکارڈ ہوئی جبکہ ناظم آباد میں 122 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش کا سبب بننے والا نظام بدھ کو اپنے عروج پر تھا اب اس میں آہستہ آہستہ کمی آنے شروع ہو جائے گا لیکن بارش کا سلسلہ کراچی سمیت بدین اور ٹھٹہ کی ساحلی پٹی پر جمعے کی شام تک جاری رہے گا۔

'یہ معمول کا مون سون ہے، پاکستان میں مون سون بارشیں یکم جون سے لیکر 30 ستمبر تک ہوتی ہیں، گذشتہ برسوں میں بارشیں کم ہوئی تھیں اس لیے لوگوں کی نظر میں یہ بارشیں غیر معمولی ہیں۔'

بارش کی وجہ سے شہر کی دونوں مرکزی شاہراہوں ایم اے جناح روڈ اور شاہراہ فیصل سمیت ناظم آباد، سرجانی، آئی آئی چندریگر روڈ سمیت چھوٹی بڑی سڑکیں زیر آب آگئیں جس کی وجہ سے درجنوں گاڑیاں اس میں پھنس گئی ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی۔

سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کردیا گیا، جبکہ سڑکوں پر پانی کی وجہ سے دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر رہی اور لوگوں نے خود کو گھروں تک محدود رکھا۔

بارش کی وجہ سے شہر میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ کراچی میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے 'کے الیکٹرک' کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ 30 کے قریب فیڈر ٹرپ ہوئے تھے یا انہیں حفاطتی اقدامات کے طور پر بند کردیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر فیڈر بحال کر دیے گئے ہیں جبکہ جن علاقوں میں بارش جاری ہے وہاں مرمت کا کام حفاظتی اقدامات کی وجہ سے روکا گیا ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے شہر اس وقت سیلابی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ایم ڈی سلمان شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے کئی علاقے زیر آب ہیں جہاں سے پانی کی نکاسی کے لیے کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے ملازم بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برساتی نالے کچرے کی وجہ سے جام ہو جاتے ہیں اور پانی بھی گنجائش سے کہیں زیادہ ہے اس وجہ سے نکاسی میں دشواری کا سامنا ہے۔

کراچی کے میئر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ سطح سمندر بلند ہو چکی ہے اور سمندر نالوں کے پانی کو پیچھے دھکیل رہا ہے، اس کے علاوہ نالے سیوریج اور کچرے کی وجہ سے جام ہیں اس لیے پانی نکلنے میں وقت لگے گا۔

'میں ایک ماہ سے کہہ رہا ہوں کہ نالے صاف کیے جائیں ہمارے پاس نکاسی آب کی 13 میں سے 9 موٹریں رہ گئی ہیں، خراب موٹروں کی مرمت کرائی جا رہی ہے لیکن وسائل کی کمی ہے۔'

کراچی شہر میں اورنگی نالے، شیر شاہ نالے، گجر نالے اور نہر خیام سمیت 41 چھوٹے بڑے نالے ہیں جن کی نکاسی سمندر کے علاوہ لیاری ندی اور ملیر ندی میں ہوتی ہے۔ بارشوں کے باعث ملیر اور لیاری ندی میں بھی تغیانی آگئی ہے۔

این ای ڈی یونیورسٹی کے پروفیسر نعمان صدیقی کا کہنا ہے کہ نالوں کی گزرگاہیں وقت کے ساتھ قانونی اور غیر قانونی تجاویزات کی وجہ سے سکڑ گئی ہیں، زیادہ تر علاقوں کے اطراف میں کیونکہ آبادیاں ہیں اس وجہ سے وہاں پر ندی نالوں پر دباؤ آ گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہر چھ ماہ کے بعد نالوں کی مرحلہ وار صفائی کا سلسلہ اب تقریباً ختم ہو گیا ہے۔

'جہاں برساتی نالوں کی نکاسی ہوتی تھی وہاں بھی قبضے ہوگئے ہیں اور اس وجہ سے پانی جس رفتار سے گزرتا تھا اس میں کمی آ چکی ہے۔'