آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بینظیر قتل کیس میں پرویز مشرف کو پیش ہونے کا حکم
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو خود پیش ہونے یا ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروانے کا کہا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ اگر وہ خود آ کر عدالت میں بیان دیں گے تو انھیں مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
سابق فوجی صدر بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ملزم ہیں تاہم عدالت نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہر تاریخ پر عدالت میں پیش ہونے سے استثنی دیا تھا۔
پرویز مشرف ان دنوں بیرون ملک ہیں اور موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ عدالتی حکم پر ملزم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پیر کو سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اصغر خان نے اس مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس مقدمے کے سرکاری وکیل نے دعوی کیا ہے کہ یہ مقدمہ عیدالاضحی سے پہلے ختم ہو جائے گا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے اس مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری اظہر کو اس مقدمے میں اپنے دلائل دینے کا کہا ہے۔
چوہدری اظہر نے بی بی سی کو بتایا کہ خواجہ امتیاز اس سلسلے میں دلائل دیں گے جبکہ حتمی دلائل وہ (چوہدری اظہر) دیں گے۔ سماعت کے دوران دو ملزمان جن میں سابق ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مقدمے کے سرکاری وکیل کے مطابق استغاثہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزمان کے وکلا دلائل دیں گے اس مقدمے میں آٹھ نامزد ملزمان حیات ہیں جبکہ پولیس رپورٹ کے مطابق اس مقدمے کا سرغنہ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود سمیت دیگر ملزمان ڈرون حملے اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارے جا چکے ہیں۔
پرویز مشرف، سعود عزیزاور خرم شہزاد کے علاوہ،رفاقت، حسنین گل، اعتزاز شاہ اور عبدالرشید شامل ہیں۔
عدالت نے ملزم پرویز مشرف کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے ان کا معاملہ دیگر ملزمان سے الگ کر دیا ہے۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے لال مسجد کے سابق بائب خطیب عبدالرشید غازی اور سنہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے دوران اعلی عدالتوں کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔
جبکہ ان کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ بھی خصوصی عدالت میں چل رہا ہے جس میں وہ پیش نہیں ہو رہے۔ عدالت نے اس مقدمے میں ملزم پرویز مشرف کی پاکستان میں جائیداد کی تفصیلات بھی طلب کر رکھی ہیں۔
سابق وزیر اعظم 27 دسمبر سنہ2007 میں راولپنڈی میں لیاقت باغ کے باہر ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئی تھی جبکہ ان کے علاوہ 25 افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔ پنجاب پولیس کے علاوہ ایف آئی اے نے اس مقدمے میں اب تک سات سے زیادہ چالان پیش کیے ہیں۔