آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
غیرملکی فنڈنگ کیس: تحریکِ انصاف کو سات ستمبر تک کی حتمی مہلت
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے غیر ملکی فنڈنگ لینے کے معاملے کی سماعت روکنے کی درخواست رد کرتے ہوئے اسے ریکارڈ جمع کروانے کے لیے سات ستمبر تک کی حتمی مہلت دی ہے۔
یہ درخواست پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی طرف سے سنہ 2014میں دائر کی گئی تھی اور چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے بدھ کو اس درخواست کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ تحریکِ انصاف کو دی جانے وای لاس مہلت میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے دلائل دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ اسی نوعیت کا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر التوا ہے اور اُن کے موکل نے پارٹی کو ملنے والی غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں معلومات جمع کروا دی ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ چونکہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمے میں الیکشن کمیشن بھی فریق ہے اس لیے اس فنڈنگ کی تفصیلات ان کے نمائندے کو بھی فراہم کردی گئی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست میں الیکشن کمیشن فریق بن چکا ہے اس لیے الیکشن کمیشن کو اس درخواست پر کارروائی آگے نہیں بڑھانی چاہیے۔
انور منصور کا کہنا تھا کہ جب تک عدالت عظمی میں زیر سماعت درخواست پر فیصلہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک الیکشن کمیشن اس درخواست پر کارروائی موخر کردے جس پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو اس درخواست پر کارروائی سے نہیں روکا۔
پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ شاید عدالت عظمی کو غیر ملکی فنڈنگ کی تاریخ کے بارے میں پوری معلومات فراہم نہ کی گئی ہوں۔
عدالت جب پی ٹی آئی کے وکیل کے دلائل سے مطمئن نہ ہوئی تو انور منصور کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں ان درخواستوں کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے پورا قصہ بیان کردیا جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاید الیکشن کمیشن کے کسی ممبر کے رکن کے ذہن میں کوئی تعصب ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پر چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسا آپ کو ہی لگ رہا ہے اور کمیشن کے کسی بھی رکن کے ذہن میں پی ٹی آئی کے بارے میں کوئی تعصب بہیں ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات جمع نہ کروانے کے لیے مختلف حیلے بہانے استعمال کرر ہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں تفصیلات فراہم کر دی جائیں تو معاملہ واضح ہو جا|ئے گا کہ غیر ملکی فنڈنگ لی گئی ہے یا نہیں۔
اکبر ایس بابر کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان ک موکل اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت حنیف عباسی کی درخواست میں بہت زیادہ فرق ہے اس لیے اس معاملے پر الیکشن کمیشن کو اس درخواست پر کارروائی روکنے کی استدعا کو قابلِ قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔