نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر

پاناما کیس میں سپریم کورٹ سے نااہل ہونے والے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے عدالتِ عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف نظرِثانی کی تین درخواستیں دائر کر دی ہیں۔

یہ درخواستیں منگل کو وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے جمع کروائی گئیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی طرف سے 28 جولائی کو سنائے گئے فیصلے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور حقائق کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

درخواستوں میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ قانون کے خلاف اور حقائق کے منافی ہے۔ سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ جب تک نظرِثانی کی درخواستوں پر فیصلہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک پانچ رکنی بینچ کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا جائے۔

اس درخواست میں نواز شریف کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انھیں اس مقدمے میں جس بنیاد پر نااہل کیا گیا، وہ ان کے خلاف دی گئی درخواست میں شامل ہی نہیں تھا۔

درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں رکنِ اسمبلی کے اثاثے ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے فورم (الیکشن کمیشن) موجود ہے۔

نظرِثانی کی درخواستوں میں عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے قومی احتساب بیورو کو نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے احکامات کو بھی چیلینج کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ عدالت کا یہ حکم اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔

درخواست کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے ریفرینس احتساب عدالت میں بھیجنے کا معاملہ آئینِ پاکستان کی شق نمبر 175 سے متصادم ہے جو کہ اختیارات کی تقسیم سے متعلق ہے۔

خیال رہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 28 جولائی کو اپنے فیصلے میں نواز شریف کو نہ صرف نااہل قرار دیا بلکہ ان سمیت ان کے بچوں کے خلاف قومی احتساب بیورو میں ریفرنس دائر کرنے کا بھی حکم سنایا تھا۔

اس کے علاوہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پانچ رکنی بینچ کی سفارش پر جسٹس اعجاز الاحسن کو نگراں جج مقرر کیا ہے جو احتساب عدالتوں میں ان ریفرنسز کی سماعت کی نگرانی کریں گے۔

پاناما لیکس کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کو آئین کے آرٹیکل 184 کے سب سیکشن تین کے تحت منظور کرلی تھیں۔

سپریم کورٹ کے قواعد کے مطابق اس آرٹیکل کے تحت کیے گئے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی جاسکتی اور اس پر محض نظرثانی کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے اور اس کی سماعت بھی سپریم کورٹ کا وہی پانچ رکنی بینچ کرتا ہے جس نے ابتدائی فیصلہ سنایا ہوتا ہے۔